30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
باوے از وے ظاہر مے شدند وحالانمی شوند کذا فی تفسیر العزیزی وبعضے گویند کہ تحقیق ہمیں است کہ شہداء راہم حیات مثل انبیاء بجسد است چنانچہ درتفسیر روض الجنان تحت آیہ کریمہ ولاتقولوا لمن یقتل فی سبیل اﷲ اموات بل احیاء می نویسد علماء درتفسیر آیت واحوال شہداء خلاف کردند، عبداﷲ ابن عباس وحسن بصری گفتند ایشاں زندہ اند بارواحہم واجسادہم بامدادو شبانگاہ روزی بایشاں می رسد وایشاں خرم اند بانچہ خدا بایشاں می دہد چنانچہ دردیگر آیت فرمود من قولہ تعالٰی یرزقون فرحین بما اٰتاھم اﷲ من فضلہ وبعضے دیگر گفتند ارواح ایشاں زندہ باشند وروزی برایشاں عرض مے کنند بامداد وشبانگاہ چنانکہ برارواح آل فرعون اتش عرضہ می کنند فی قولہ تعالٰی النار یعرضون علیھا غدوا وعشیّا وعلمائے محققان بیشتر برقول اول اند[1]انتھی |
کہ شعور وادراك اور حرکات وتصرفات روح کے تعلق کی وجہ سے اس سے ظاہر ہوتے تھے اور اب نہیں ہوتے ایسا ہی تفسیرعزیزی میں ہے: اور بعض کہتے ہیں کہ تحقیق یہی ہے کہ شہداء کے لیے بھی انبیاء کی طرح جسم کے ساتھ زندگی ہے جیساکہ آیہ کریمہ"اﷲ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں"کے تحت تفسیر روض الجنان میں لکھتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر اور شہداء کے احوال میں علماء کا اختلاف ہے۔ عبداﷲ بن عباس اور حسن بصری فرماتے ہیں شہداء جسم وروح کے ساتھ زندہ ہیں صبح وشام انھیں رزق ملتا ہے اور یہ اس پر خوش ہیں جو خدا انھیں دیتا ہے جیساکہ دوسری آیت میں باری تعالٰی کاارشاد ہے انھیں رزق دیا جاتا ہے وہ اس پر خوش ہیں جو اﷲ نے اپنا فضل انھیں عطا کیا، بعض دیگر کہتے ہیں ان کی روحیں زندہ ہوتی ہیں او ر ا ن ہی پر صبح وشام رزق پیش کرتے ہیں۔ جیسے فرعونیوں کی روحوں پر آگ پیش کرتے ہیں ارشادباری تعالٰی ہے: وہ صبح وشام آگ پر پیش ہوتے ہیں، اور اکثر علما ئے محققین پہلے قول پر ہیں۔ ختم (ت) |
کیو ں ملاجی! اب نسبت کی خبریں کہیے جب اہل سنت کے نزدیك ہر فاسق وکافر کی روح زندہ ہے موت صرف بدن کے لیے ہے اسی کے ادراکات زائل ہوتے ہیں تو اب سماع موتٰی میں کیا مجال مقال رہی جوابات سابقہ کی تقریر کیسی روشن طورپر ثابت ہوگئی، تفہیم المسائل کی ساری عرق ریزی کیسی خاك میں ملی، اب یہ کلام مشائخ جس میں موت وبےفہمی وبے حسی کی تصریحیں ہیں روح پر محمول ہو مشائخ اہلسنت کا کلام نہ ہونا کیسا واضح و منجلی والحمد ﷲ العظیم العلی، اور عجیب لطیفہ یہ کہ ساتھ ہی خوش وقتی میں آکر تفسیر روض الجنان کی عبارت بھی نقل فرماگئے، جس نے رہی سہی ڈھول سے کھال بھی کھوئی، اس میں صرف تصریح ہے کہ سید نا عبداﷲ ابن عباس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع