30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سقیم او راداعائے تفہیم ولاحوال ولاقوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم۔
ھذا وانا اقول: وباﷲ التوفیق سب این وآن سے درگزرے تواب دلائل ساطعہ قاطعہ حاکم ہیں کہ یہ قطعا مذہب معتزلہ ہے مثلًا حجت اولٰی کلام کا ہے میں مفروض ہوا روح میں سماع سے کیا مراد لیا، ادراك مطلق اگر چہ بے ذریعہ آلات اور یہ مشائخ دلیل کیا لا رہے ہیں کہ وہ مردہ ہے، بے حس ہے فہم وادراك کے قابل نہیں، یہ کہ ہزار بار سن چکے ہو کہ روح کی نسبت ان اعتقاد ات سے اہل سنت پاك ومنزہ ہیں یہ معتزلہ وغیرہم ضالین ہی کے خیالات بد مزہ ہیں خود آپ ہی اسی تفہیم میں فرماتے ہیں:
|
مذہب بعض معتزلہ آنِ است کہ اگر میّت جماد ست دران حیات وادراك نیست [1]۔ |
بعض معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ میّت جماد ہے اس میں حیات ادراك نہیں۔ (ت) |
اور اس میں فرمایا :
|
بعض معتزلہ کہ آیہ کریمہ وماانت بمسمع من فی القبور درانکار تعذیب استدلال می کردند عینی درہمیں شرح بہ جواب ایشاں نوشتہ کہ عدم اسماع مستلزم عدم ادراك نیست [2]۔ |
آیت کریمہ"تم انھیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں ہیں"سے بعض معتزلہ کا انکار تعذیب پراستدلال تھا، عینی نے اسی شرح میں ان کا جواب لکھا کہ نہ سنانا عدم ادراك کو مستلزم نہیں۔ (ت) |
افسوس صاحب تفہیم المسائل کی بیہوشی ص ۶۳پر یہ اَنکہی بھی بلواگئی :
|
ہر چند بعضے گویند کہ شہداراہم حیات مثل انبیا بجسد است مگر ایں قول مختار اہل تحقیق نیست انچہ تحقیق است این ست کہ حیات انبیاء بسلامت جسد وروح ہر دوست وحیات شہداء صرف بقائے روح است بلکہ تخصیص شہدا نیز بایں معنی لغوست زیراکہ ارواح رامطلقًا خواہ روح شہید باشد یاروح عامہ مومنین یا روح کافرو فاسق باین معنی مردہ نتواں مردگی صفتِ بدن است کہ شعور ادراك وحرکات وتصرفات بہ سبب تعلق روح |
بعض کہتے ہیں کہ انبیاء کی طرح شہید کے لیے بھی جسم کے ساتھ زندگی ہے۔ مگر یہ قول اہل تحقیق کا مختار نہیں تحقیق یہ ہے کہ انبیاء کی زندگی جسم وروح دونو ں کی سلامتی کے ساتھ ہےاور شہدا کی زندگی صرف بقائے روح کے ساتھ ہے بلکہ اس معنی میں شہداء کی تخصیص لغو ہے اس لیے کہ ارواح کو مطلقًا خواہ شہید کی روح ہو یا عام مومنین کی روح یا کافر وفاسق کی روح کسی کو اس معنٰی میں مردہ نہیں کہہ سکتے، موت بدن کی صفت ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع