30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نوشتہ تخصیص الشیئ باسمہ لایدل علی نفی الحکم عما عداہ [1]۔ |
لازم نہیں آتی، توضیح میں ہے کسی خاص چیزکا نام لینا یہ نہیں بتاتا کہ اس کے ماسوا سے حکم نفی ہے۔ (ت) |
انھوں نے کلام شافعیہ میں دیکھ کر ان کی طرف نسبت کیا اس سے کیا لازم کہ حنفیہ نے نسبت نہ کیا اور بالفرض ان کا لازم سخن یہ ہوبھی تو جب صراحۃً انکھوں کے سامنے اجلہ حنفیہ کی تصریحات موجود تو کیا بعض علماء کے کلام سے نفی مفہوم ہونا محسوسات کو مٹادے گا، قاعدہ اجماعیہ عقل ونقل میں تو مثبت کو نافی پر مقدم رکھتے ہیں، دو علمائے معتمدین سے ایك فرماتا کہ حنفیہ نے ایسا نہ لکھا، دوسرا فرماتا لکھا، تولکھتا ہی ثابت ہو تا کہ اس نے نہ دیکھا لہذا انکار کیااور نہ دیکھنا کوئی حجت نہیں ومن علم حجۃ علی من لم یعلم (علم والاحجت ہے اس پر جسے علم نہیں۔ ت) نہ کہ ثبوت عیانی کو نفی بیانی سے دیدہ نادیدہ کردیں یعنی اگر چہ ہم انکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اکابر علمائے حنفیہ نے لکھا مگر فاضل برجندی جو لکھ چکے ہیں کہ شافعیہ نے کہا لہذا مجبوری ہے اب حس ومشاہدہ کی تکذیب ضروری ہے۔ سچ ہے آدمی وہابی ہو کر جماد لایسمع ولایفہم ہوجاتا ہے۔
ثالثًا طرفہ جہالت یہ کہ مطلق انکار کی جانب معتزلہ منسوب ہے نہ اس خصو صیت سے تصحیح المسائل میں کب فرمایا تھا کہ انکار باین خصوص منسوب بہ معتزلہ ہے۔ اسے ذی ہوش!حاصل کلام تویہی تھا کہ انکار تلقین مذہب معتزلہ ہے اور امام ابن ہمام اس کا مبنٰی، بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ منکر سماع تھے لہذا تلقین سے منکر ہوئے تو ظاہر ہوا کہ منکرین سماع معتزلہ ہیں اگرسرے سے بخصوص انکار سماع جانب معتزلہ نسبت ہوتی توا س توسیط کی کیا حاجت تھی ویسے ہی کہہ دیاجاتاکہ دیکھو انکار سماع قول معتزلہ بتایا گیا،ہاں اس پرایك شبہ ہوتا تھا کہ بعض اہلسنت عــــہ بھی تو منع تلقین کی طرف گئے اور جب اس کا مبنٰی وہ ہے تو یہ بھی اس کے قائل ٹھہریں گے، تصحیح میں اس وہم کے دفع کو توجیہ فرمادی کہ ان کا انکار انکار سماع پر مبنی نہیں بلکہ ان کے نزدیك تلقین کا بیکار یا ثابت ہونا ذی ہوش نے اسے نسبت بایں خصوص کا دعوٰی سمجھ لیا یہ فہم
عــــہ: اقول: سابقا مذکور ہو اکہ ظاہر الروایۃ سے منع ثابت نہیں اور امام صفا ر خود امام اعظم پر تلقین مانتے اور منکر کو معتزلی جانتے ہیں اور شك نہیں کہ معتزلہ قدیم سے شامل اہل مذہب ہیں اورا نھیں بر بنائے جمادیت موتٰی انکار تلقین لازم ، ابتداءً وہی لوگ اپنے مذہب فاسد کی بنا پر منکر تھے، لہذا امام صفار اس حصہ پر حاکم بعد مرور زمان بعض متاخرین اہلسنت نے کلمات مشائخ مذکورین میں انکار اور ظاہر الروایۃ میں عدم ثبوت دیکھ کر انکار کیا اور عدم فائدہ یا عدم ثبوت سے رنگ توجیہ دیا لہذا اب انکار دوطرفہ منقسم ہوگیا بوجہ جمادیت خاص بمعتزلہ اور بعض اہلسنت کا بوجوہ دیگر جیسا کہ کلام امام نسفی سے گزرا فاعملہ فعسی ان لا یتجاوز الواقع عنہ ۱۲ منہ (اسے اچھی طرح جان لے ہوسکتا ہے واقعہ ا س سے متجاوز نہ ہو ۱۲منہ ۔ ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع