30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بروجہ جزئی اگر چہ بے ذریعہ آلات تو محمول میں بھی دو احتمال ہوئے اور حاصل ضرب چار:
(١) بدن مردہ کو سمع آلات نہیں۔
(٢) بدن مردہ کو ادراك اصوات نہیں۔
(٣) روح مردہ کو سمع آلات نہیں۔
(٤) روح مردہ کو ادراك اصوات نہیں۔
پہلے تینوں معنی حق ہیں اور ہمارےکچھ مخالف نہیں، نہ مخالف کواصلًا مفید۔ کلام کے اگردو ہی معنی ہوتے ایك موافق ایك مخالف، تو مخالف کو اس سے سند لانے کاکوئی محل نہ تھا، نہ احتمالی بات پر مشائخ کرام کو منکر سماع متنازع فیہ کہنا صحیح ہوسکتا ہے، نہ کہ تین احتمالات صحیحہ کو چھوڑ کر از پیش خویش چوتھا احتمال جمالینا اور کلام کو بزور زبان خواہی نخواہی اپنی سند بتادینا کیسی جہالت واضحہ ہے!
جواب چہارم: مذہب حنفیہ میں معتزلہ بکثرت پیرے ہوئے ہیں یہ مشائخ کہ برخلاف عقیدہ اہلسنت منکر سماع ہیں وہی معتزلہ ہیں یہ جواب سیف اﷲ المسلول مولٰنا المحقق معین الحق فضل الرسول قدس سرہ نے تصحیح المسائل میں افادہ فرمایا۔
اقول: کلام مشائخ سے استناد مخالف دو مقدموں پر مبنی تھا، صغرٰی یہ کہ امتناع سماع متنازع فیہ قول اکثر مشائخ حنفیہ ہے جس کے ثبوت میں وہ عبارات خمسہ پیش کیں، اور کبرٰی مطویہ مستورہ یہ کہ جو قول اکثر مشائخ حنفیہ ہے فی نفسہٖ حق ہے یا ہم پر اس کی تسلیم واجب ہے، تقدیر اول پر دلیل تحقیقی ہوگی اور دوسرے پر الزامی، بہر حال اس کا ثبوت کچھ نہیں، اگلے تین جواب ان کے ْصغرٰی کی ناز برداری میں تھے یعنی کلام مشائخ میں سماع متنازع فیہ کا انکار ہر گز نہیں، اب یہ جواب اور باقی اجوبہ کبرٰی مستورہ کی خدمت گزاری کو ہیں کہ اگر مکابرہ واصرار وعناد واستکبار سے کسی طرح باز نہ آؤ اور خواہی نخواہی معانی صادقہ صحیحہ موافقہ احادیث صحیحہ عقیدہ اہلسنت وکلمات ائمہ کرام وخود اقوال مشائخ اعلام کو چھوڑ کر بے دلیل بلکہ خلاف دلائل واضحہ معنی کلام مشائخ یہی گھڑ و کہ ارواح موتی کو کسی طرح ادراك کلام نہیں ہوتا، تواب ہم ہر گز نہیں مانتے کہ اس قول کے قائل مشائخ اہلسنت ہوں جن کے ارشاد ہم پر حجت ہوں کیا مشائخ مذہب میں معتزلہ نہیں، درمختار کتاب النکاح فصل محرمات میں ایك مسئلہ کشاف زمخشری معتزلی سے نقل کیا اس پر علامہ شامی نے ردالمحتار میں فرمایا:
|
نقل ذلك عنہ لان الزمخشری من مشائخ المذہب وھوحجۃ فی النقل [1]۔ |
یہ مسئلہ اس سے اس لیے نقل کیا کہ زمخشری مشائخ مذہب سے ہے اور اس کی نقل پر اعتماد ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع