30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دریں ہر دو حدیث دلیل ست بارآنکہ موتی راسماع نیست و برآنکہ ایں امر مستفربود نزد صحابہ زیرا کہ ایشاں بر عرض و سماع در وبعد موت استعجاب کردہ استفسار نمودند آنحضرت عــــہ جواب دادند کہ چوں انبیاء راحیات دنیاوی حاصل وجسد ایشاں نیز باقی ست لہٰذا محل استبعاد سماع وعرض نیست۔[1] |
ان دونوں حدیثوں میں اس پر دلیل ہے کہ مردوں کو سماع حاصل نہیں اور اس پر کہ یہ امر صحابہ کے نزدیك قراریافتہ تھا اس لیے کہ ان حضرات نے بعد موت درود پیش ہونے اور سننے پر تعجب کرکے سوال کیا۔ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جب انبیاء کو حیات دنیاوی حاصل ہے اور ان کا جسم بھی باقی ہے تو سننے اور پیش ہونے کو بعید سمجھنے کا موقع نہیں۔ (ت) |
اقول: اولًا اگر یہ مراد کہ ان سے عام لوگوں کے لیے بعد موت ادراك جسمانی نہ رہنا مستفاد ، تو ہمیں مسلم اور تمھیں کیا مفاد اور ادراك روح کا انکار ماننا اور اسی کو اذہان صحابہ میں مستقر جاننا معاذاﷲ انھیں بدمذہب ٹھہرانا اور حضورسید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا اس پر سکوت تقریر وتسلیم بتانا ہے۔ ذی ہوش نے اتنا نہ دیکھا کہ صحابہ کرام نے فنائے جسدو بقائے ادراك میں تنافی ظاہر کی اور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نفی تنافی سے جواب نہ دیا بلکہ نفی منافی سے کہ انبیاء کے اجسام بھی زندہ ہیں اب یہاں ادراك روح میں کلام ہو تو دو ہی صورتیں ہیں یا تو صحابہ موت جسد سے روح کو بھی مردہ مانتے یا ادراك روح کے لیے بقائے بدن شرط جانتے، فصول سابقہ نیزمباحثِ قریبہ میں بار بار تکرار واضح ہوچکا کہ یہ دونوں قول اہل بدعت وضالین معتزلہ وغیرہم مخذ ولین کے ہیں۔ قول ١٥ میں مقاصد وشرح مقاصد سے گزرا کہ بدن کو شرط ادراك جاننا اہلسنت کے خلاف معتزلہ کا اعتساف ہے۔ اسی طرح عامہ کتب عقائد وتفسیر کبیر وغیرہا میں تصریح منیر افسوس کہ اپنی بد مذہبی بنانے کے لیے معاذاﷲ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو عقائد فاسدہ کا معتقد ومظہر اور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو ان پر ساکت ومقربتاؤ اور دل میں خوفِ خدا نہ لاؤ۔
ثانیا کیا خواب میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت صرف سکوت بتانا کہہ رہاہوں وہ صراحۃً کلام اقدس کے معنی بتا چکا کہ از آنجا کہ انبیاء کے اجسام باقی ہیں، لہذا سننے میں استعباد نہیں کیا ظلم ہے کہ صاف صاف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ و سلم کو ادراك روح کے لیے بقائے جسم کا شرط ماننے والا بتاؤ، خدا بدمذہبی کی بلا سے بچائے۔
ثالثًا طرفہ یہ کہ یہاں پیشی درود بذیعہ ملائکہ مقصود حدیث دوم میں شہود ملائك کی تصریح موجود اور خود اس کے
عــــہ : اقول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع