30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاربعۃ السابقون علی الاخیرین وابن دحیۃ وغیرھم وحسنہ وعبدالغنی والمنذری۔ |
ابن حبان، دارقطنی ، حاکم اور ابن دحیہ وغیر ہم نے اسے صحیح کہااور عبدالغنی اور منذری نے حسن کہا۔ (ت) |
اسی طرح دوسری حدیث میں ہے: حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
|
اکثروا الصلٰوۃ علی یوم الجمعۃ فانہ مشھود تشھدہ الملئکۃ وان احدا لم یصلی علی الاعرضت علی صلوتہ حتی یفرغ منھا۔ |
جمعہ کے دن مجھ پر درود زیادہ بھیجا کرو کہ وہ دن حضور ملائك کا ہے رحمت کے فرشتے اس دن حاضر ہوتے ہیں اور جو مجھ تك درود بھیجتا رہے اس کی درود مجھ پر پیش کی جاتی ہے۔ |
ابود رداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: قلت وبعد الموت میں نے عرض کی اور بعد انتقال اقدس! فرمایا:ان اﷲ تعالٰی حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء بے شك اﷲ تعالٰی نے زمین پر انبیاء کا جسم کھانا حرام کیا ہے۔ تتمہ حدیث عــــہ ہے۔ فنبی اﷲ حی یرزق [1]، اﷲ کے نبی زندہ ہیں روزی دئے جاتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
|
رواہ احمد وابوداؤد وابن ماجۃ عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
اسے امام احمد ، ابوداؤدا ور ابن ماجہ نے حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت) |
پر ظاہر کہ پیش ہونے کے معنی نہ تھے مگر اطلاع دی جاتی ، اس سے صحابہ کرام کے ذہن ادراك واطلاع بذریعہ آلات جسمانی ہی کی طرف گئے لہٰذا و ہ سوال عرض کئے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حیات بدن ہی سے جواب دیے صاحب تفہیم المسائل کی جہالت کہ یہ حدیثیں ذکر کرکے لکھا:
|
عــــہ: ھکذا لان ھذہ القطعۃ محتملۃ الادراج فاثبتھا علی وجہ یحتمل الوجھین وھذا من دقائق حسن التعبیر فلیتنبہ وﷲ الحمد ۱۲۔ |
میں نے اسے اس طرح ذکرکیا ا س لیے کہ اس حصہ حدیث میں یہ احتمال ہے کہ راوی نے اپنے طور پر کہا ہو اور یہ بھی کہ حضور کا کلام نقل کیا ہو تو میں نے اس طور پر اسے لکھا کہ دونوں صورتیں بن سکیں یہ حسن تعبیر کی باریکی ہے جس پرتنبہ چاہئے، اور حمد خداہی کے لیے ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع