30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول: وبا ﷲ التوفیق محصل ارشاد مبارك شیخ شیوخ علماء الہند قدس سرہ یہ ہے کہ سمع حقیقۃً بمعنٰی مطلق ادراك مخصوص اصوات ہے عام ازیں کہ آلات جسمانیہ کا توسط ہو یا نہیں، ولہٰذا اﷲ عزوجل کو سمیع مانتے ہیں کہ عقیدہ ایمانیہ ہے محققین کے نزدیك کوئی تاویل وتجو ز نہیں اس لیے ہم قائل سماع حقیقی ارواح مفارقہ ہیں اگر چہ موت تعلیل آلات کردے اور اگر سمع کیلئے یہ معنٰی بھی مانیے بلکہ توسط آلات ہی سے مخصوص جانئے تو ہم علٰی سبیل التنزیل کہیں گے کہ سمع نہ سہی ادراك تام بروجہ جزئی تو ہے اس قدر سے ہمارا مدعا حاصل، اگر چہ بنام سمع تغبیر نہ کریں جیسے بعض متکلمین نے سمع وبصر الٰہی جل وعلا کو یونہی تاویل کیا، اور مقدمہ رابعہ میں تقریر فقیر غفرلہ المولی القدیر یا د کیجئے تو اس کا مسلك یہ ہے کہ بحمدﷲ تعالٰی نہ ہمیں دعوٰی سمع سے تنزیل کی حاجت نہ روح مفارق، یا معاذاﷲ حضرت عزت میں ارتکاب تاویل کی ضرورت سمع کے دونوں معنی مقرر ومسلم ہیں اور ایك دوسرے کانافی نہیں، معنی آلیت نہ کبھی مراد تھی کہ اب تنزل کریں نہ کریں نہ اس معنی میں اطلاق سمع محصور ہوسکے کہ ناچار تاویل وتحمل کریں، خیر یہ طرز بحث کا تنوع تھا اصل سخن کی طرف چلئے، فاقول: جبکہ سمع کے جسمانی وروحانی دونوں معنی اور جسمانی کی نفی میں نہ ہمیں ضرر نہ مخالف کو نفع تو احتمال قاطع استدلال نہ کہ جب جسمانی ہی کا ارادہ راجح و واضح ہو پر ظاہر کہ ادراك اصوات کا یہی طریقہ معلومہ معہودہ ہے، تو باہمی محاورات عرفیہ می ذہن اسی طرف تباہ کرے گا، آخر نہ دیکھا جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بعد ذکر فضائل جمعہ ارشاد فرمایا:
|
اکثر واعلی من الصلوۃ فیہ فان صلٰوتکم معروضۃ علی۔ |
اس دن مجھ پر درود بہت بھیجو کہ تمھارا درود مجھ پر عرض کیا جائے گا۔ (ت) |
صحابہ نے گزارش کی:
|
یا رسول اﷲ وکیف تعرض صلاتنا علیك وقد ارمت۔ |
یا رسول اللہ! یہ کیونکر ہوگا حالانکہ بعد وصال جسم باقی نہیں رہتے۔ (ت) |
فرمایا:
|
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء۔ [1] رواہ الامام احمد والدارمی وابواداؤد والنسائی ابن ماجۃ وابن خزیمۃ وابن حبان والداقطنی و الحاکم والبیہقی فی الدعوات الکبیر وابو نعیم وصححہ |
بے شك اﷲ تعالٰی نے زمین پر انبیاء کا جسم کھانا حرام کیا ہے۔ (ت) اسے امام احمد ، دارمی ، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، ابن حبان، دارقطنی، حاکم، دعوات کبیر میں بہیقی اور ابو نعیم نے روایت کیا۔ اور ابن خزیمہ، |
[1] مسند احمد بن حنبل مروی از اوس بن ابی اوس دارالفکر بیروت ٤/٨،سنن ابن ماجہ باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص١١٩، سنن ابو داؤد باب تفریع ابواب الجمعہ آفتاب عالم پریس لاہور ١/١٥٠
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع