30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آہستہ آہستہ نرم نرم ڈالنا۔ یہی ۹وصیت حدیث ٣٢ میں علاء بن لجلاج تابعی سے گزری اور ۱۰وہیں اس پر شیخ محقق کا قول کہ:
|
ایں قول اشارت است باآنکہ میّت احساس می کند ودردناك می شود بآنچہ دردناك م شود بآں زندہ [1]۔ |
اس قول میں اس جانب اشارہ ہے کہ میّت کو احساس ہوتا ہے اور اسے بھی اس چیز سے درد پہنچتا ہے جس سے زندہ کو درد پہنچتا ہے (ت) |
۱۱حدیث ١٦ میں امام سفیان کا ارشاد گزرا کہ:
|
انہ لینا شد باﷲ غاسلہ الا خففت غسلی [2]۔ |
مردہ اپنے نہلانے والے کو خدا کی قسم دیتا ہے کہ مجھ پر آسانی کرنا۔ |
۱۲ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے ایك عورت کی میّت کو دیکھا کہ اس کے سر میں زور زور سے کنگھی کی جاتی ہے۔ فرمایا:
|
علام تنصون میّتکم[3]۔ الامام محمد فی الاثار اخبرنا ابو حنیفۃ ح وعبدالرزاق فی مصنفہ واللفظ لہ قال اخبرنا سفیٰن عن الثو ری کلاھما عن حماد بن ابی سلیمان عن ابراہیم النخعی عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا انھا رأت امرأۃ یکدون رأسھا بمشط فقالت علام تنصو میّتکم [4] ورواہ کمحمد ابو عبید القاسم بن سلام وابراھیم الحربی فی کتابیھما فی غریب الحدیث عن ابراہیم عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا انھا سئلت عن المیّت یسرح رأسہ فقالت علام |
کس جُرم میں اپنے مردے کی پیشانی کے بال کھینچتے ہو۔ (اسے امام محمد نے کتاب الآثار میں روایت کیا، فرمایا ہمیں ابوحنیفہ نے خبر دی__ اور عبدالرزاق نے مصنف میں روایت کیا__ الفاظ اسی کے ہیں: کہا ہمیں خبردی سفیان نے وہ ثوری سے راوی ہیں۔ امام ابو حنیفہ اور سفیان ثوری دونوں حماد بن ابی سلیمان سے وہ ابراہیم نخعی سے وہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے راوی ہیں انھوں نے دیکھا کہ ایك عورت کے بالوں میں کنگھا کررہے ہیں، فرمایا:"کیوں اپنی میّت کی پیشانی کے بال کھینچتے ہو؟"اور اسے امام محمد کی طرح ابوعبیدقاسم بن سلام اور ابراہیم حربی نے اپنی کتاب غریب الحدیث |
[1] اشعۃ اللمعات باب دفن المیّت مکتبہ نو ریہ رضویہ سکھر ١/٦٩٧
[2] شرح الصدور عن سفیان باب معرفۃ المیّت من یغسلہ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص٤٠
[3] کتاب الآثار امام محمد باب الجنائز وغسل المیّت ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ص٤٦
[4] مصنف عبدالرزاق با ب شعر المیّت واظفارہ حدیث ٦٢٣١ المکتبۃ الاسلامی بیروت ٣/٤٣٧
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع