30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسے معاصرہ بلکہ مدارك العصر سے ، مگر نابینائی جو چاہے کرائے۔
تنبیہ دوم: اقول: بحمدﷲ تعالٰی واضح ہوچکا کہ ہمیں بقائے حیات بدن وسماع جسمانی سے کچھ کلام نہ وہ عام لوگ میں ہمارا دعوٰی، نہ ہمارا کوئی مسئلہ اس پر موقوف، توا گر بالفرض بدن کے لیے موت مطلق دائم رہتی ہمارا کچھ حرج نہ تھا، ورود نصوص کے سبب ہم نے تنعیم وتعذیب قبر روح وبدن دونوں کے لیے مانی، اور شبہات عقل و نقل بدن کے واسطے بھی ایك نوع حیات اس تلذم وتنعم وتالم کے لےے لازم جانی، ہاں یہ ضرور ہمارا مدعا ہے اور بحمدﷲ تعالٰی دلائل قاہرہ اس پر قائم ہوچکے کہ روح باقی مستقر بحال ونامتغیر وسمیع ومبصر، اور بدن کے ساتھ اس کا ایك تعلق ہمیشہ مستمر، تو جو کچھ بعد فراق بھی بدن کے ساتھ کیا جائے ضرور دیکھے گی، مطلع ہوگی، اگر وہ فعل تعظیم ہے پسند کرے گی یا اہانت ہے نا خوش ہوگی، اذیت پائے گی، فصول سابقہ اس بیان کی متکفل ہوچکیں تو خارج سے بھی جو ضرب یا صدمہ بدن میّت پر واقع ہو اگر بطور استہانت وتحقیر ہے قطعا روح کا ایذا روحانی ہوگی، رہا یہ کہ اس سے اس اذیت ودرد جسمانی بھی لاحق ہوگا یا نہیں، یعنی جس طرح عالمِ حیات میں بدن پرجو صدمہ آتا ہے بدن اسے روح تك پہنچانے کا آلہ وواسطہ بنتا کہ ا س کے تفرق اتصال سے روح کو درد پہنچتا، آیا بعد فراق بھی مثل عذابِ الٰہی والعیاذباﷲ تعالٰی تعذیب بشری سے بھی الم ہوتا ہے یا اس میں درد منتقی، اور صرف وہی توہین کے باعث ناخوشی باقی ظاہر کلام مشائخ کرام جانب ودوم ہے ،۱ ولہٰذا کافی میں فرمایا:
|
المیّت لا یتالم بضرب بنی آدم وانما ذلك مما یتفرد بہ اﷲ تعالٰی [1]۔ |
میّت کو بنی آدم کے مارنے سے دکھ نہیں ہوتا، یہ ایسا امر ہے جو خداے تعالٰی کے ساتھ خاص ہے۔ (ت) |
اور ۲یہی مقتضائے اثر حضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے:
|
اخرج ابن سعد عن خلف معد ان قال لما انھز مت الروم یوم اجنادین انتھوا الی موضع لا یعبرہ الا انسان وجعلت الروم تقاتل علیہ وقد تقدموہ وعبروہ فتقدم ھشام بن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ فقاتل علیھم حتی قتل، ووقع علی تلك الثلمۃ فسدھا، فلما انتھی المسلمون الیھا ھابوا ان یوطؤھا الخیل |
ابن سعد نے خلف بن معدان سے روایت کی وہ فرماتے ہیں جب روز اجنادین رومی شکست خوردہ ہونے لگے ایك ایسی تنگ جگہ پہنچ گئے جسے بس ایك ایك آدمی پار کرسکتا تھا، اسی جگہ رومی جنگ کرنے لگے، ہشام بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ آگے بڑھے، لڑتے رہے یہاں تك کہ شہید ہوکر اسی تنگ جگہ آرہے۔ ان کے جسم سے وہ حصہ بھرگیا، جب مسلمان وہاں پہنچے تو ان کے اوپر گھوڑے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع