30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماخذ حسب اختلاف مذہب مختلف مثلًا حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاك لے کر ندا کرنی ہمارے نزدیك بھی ناجائز ہے اور وہابیہ تو قاطبۃً شرك کہتے ہیں ان کا ماخذ ملوم وہی شرك موہوم اور ہمارے منع کی وجہ آیہ کریمہ
" E _ø~b»$"xr[1]رسول کا پکارنا اپنے میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسے ایك دوسرے کو پکارتے ہو ۔ تونام لے کر ندا ناجائز ہے بلکہ یا رسول اللہ، یا حبیب اللہ، یا خلیفۃ اﷲ وغیرہا اوصاف کریمہ کے ساتھ نداچاہئے ، یوں ہی مسئلہ تلقین بعد دفن کو جمہور معتزلہ تو منع کیاہی چاہیں کہ ان سنگ ساروں کے نزدیك اموات کی روح وبدن سب اینٹ پتھر ہیں، ولہٰذا وہ سفہاء عذاب قبر وسوال نکیرین کے منکر ہیں اور حنفیہ میں جمہور مانعین وہی ہیں قول ۱۳۱ میں امام زاہد صفار کا ارشاد سن چکے کہ منع تلقین مذہب معتزلہ پر ہے۔ قول ١٣٤ و ١٣٥ میں جوہرہ نیرہ و درمختار سے گزرا کہ تلقین اہل سنت کے نزدیك مشروع ہے، قول ١٥٤:
|
ہر کہ تلقین نمی کند ونمی گویدبآں اور بر مذہب اعتزال است کہ گویند میّت جماد محض است [2]۔ |
جو تلقین کا عامل وہ قائل نہیں وہ مذہب معتزلہ پرہے جو کہتے ہیں کہ میّت جماد محض ہے۔ (ت) |
ولہٰذا امام ابن ہمام نے اپنا عندیہ بیان فرمایا کہ میرے گمان میں منع تلقین انکار سماع پر مبنی ہے یہ ان جمہور مانعین کے لحاظ سے ضرور صحیح ہے مگر بعض علمائے اہل سنت کہ منع میں شریك ہوئے ان کا ماخذ یہ ہر گز نہیں بلکہ بعض کے نزدیك بدعت ہونا، کما مرعن سلطان العلماء (جیسا کہ سلطان العلماء سے گزرا۔ ت) یا ان کے خیال میں بے فائدہ ٹھہرنا کہ ایمان پر گیا تو کیا حاجت ورنہ کیا منفعت، ولہٰذا اما م نسفی نے مسئلہ یمین میں وہ تصریحات فرمائیں مگر انکار تلقین میں ہر گز اس کا نام نہ لیا بلکہ اسے عدم فائدہ سے استناد کیا، جیسا کہ قول ١٥٤ او نکتہ جلیلہ میں گزرا، ولہٰذا ملك العلماء بحرا لعلوم عبدالعلی محمد نے جب انکار تلقین اختیار کیا اس پر اسی انعدام نفع سے استظہاراور ساتھ ہی بربنائے انکار سماع انکار ماننے پر تصریح انکار کیا ارکانِ اربعہ میں فرما تے ہیں:
|
لان المیّت لافائدۃ من تلقینہ اصلا لانہ ان مات مسلما فھو ثابت علی الشھادۃ بالتوحید والرسالۃ فالتلقین لغو وان مات کافرا فلا یفید التلقین لانہ لاینفعہ الایمان بعد الموت وماقیل ان التلقین لغو لان المیّت |
تلقین میّت میں اصلا کوئی فائدہ نہیں اس لیے کہ اگر وہ اسلام پر مرا ہے تو خود توحید ورسالت پر قائم ہے پھر تلقین بیکار ہے۔ اور اگر کفر پر مراہے تو تلقین سود مند نہ ہوگی اس لیے کہ موت کے بعد ایمان لانا اسے نفع بخش نہ ہوگا، اور یہ جو کہا گیا کہ تلقین اس لیے لغو ہے کہ میّت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع