30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماتے ہیں:
|
وفی حدیث ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عند الطبرانی من قول حماد وابی عمر الضریر مایصرح بذلك [1]۔ |
طبرانی کے یہاں بالفاظ حماد وابوعمر ضریر جو حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے اس میں اس کی تصریح ہے۔ (ت) |
اور اگر سوال مانئے بھی تواس کا وقت ابتدائے وضع ودفن ہے یہاں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان ناپاك لاشوں سے وہ گندہ کُنواں پٹ جانے کے تین دن بعد وہاں تشریف لے جاکر مخاطب ہوئے تھے، صحیح مسلم کی روایت حدیث ٤٨ میں گزری اور صحیح بخاری شریف میں ہے:
|
عن ابی طلحۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امر یوم بدر باربعۃ وعشرین رجلا من صنادید قریش فقذ فوافی طوی من اطواء بدر خبیث مخبث وکان اذا ظھر علی قوم اقام بالعرصۃ ثلث لیال فلما کان ببد رالیوم الثالث امر براحلتہ فشد علیھا رحلھا ثم مشی وتبعہ اصحابہ وقالوا مانری ینطلق الا لبعض حاجتہ حتی قام علی شفۃ الرکی فجعل ینادیھم باسمائھم واسماء اٰبائھم یا فلاں بن فلاں ویا فلان بن فلان ایسرکم انکم اطعتم اﷲ ورسولہ فانا قد وجد نا ماوعدنا ربناحقافھل وجدتم ماوعد ربکم حقا قال فقال عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ یا رسول اﷲماتکلم من اجسادا لاارواح لھا فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی |
حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے روز بدر قریش کے چوبیس سربرآوردہ اشخاص کو بدر کے کنوؤں میں ایك گندے پلید کنویں میں پھنکوادیا، حضور کاطریقہ یہ تھا کہ جب کسی قوم پر فتحیاب ہوتے تو میدان میں تین دن قیام فرماتے، جب بدرکا تیسرا دن تھا تو سواری مبارك پر کجاوہ کسوایا، پھر چلے، صحابہ نے ہمر کابی کی، اور کہا ہمارا یہی خیال ہے کہ اپنے کسی کام سے تشریف لے جارہے ہیں، یہاں تك کہ کنویں کے سرے پر ٹھہر کران کا اور ان کے آباء کانام لے لے کر اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں کہہ کر پکارنے لگے، فرمایا"کیا اس سے تمھیں خوشی ہوتی کہ اﷲ اور اس کے رسول کا حکم تم نے مانا ہوتا، ہم نے تو حق پایا وہ جس کا ہمارے رب نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا، کیا تم نے اس کو ثابت پایا جو تمھارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا"حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کیا: یار سول اﷲ ! کیا آپ ان جسموں سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع