دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 9 | فتاوی رضویہ ۹

book_icon
فتاوی رضویہ ۹

ثالثًا بہت اچھا، جب ابتدائے دفن میں تم خود سماع کے قائل،یہاں تك کہ کلام لایعقل متکلم لا یعقل اعنی تفہیم المسائل بھی معترف وقائل، حیث قال دروقت سوال وجواب ہمہ قائل سماع اند [1](اس کے الفاظ یہ ہیں: سوال وجواب کے وقت سبھی سماعت کے قائل ہیں، ت) اس وقت کلام کرنے سے کیوں حنث نہیں ہوتا کہ اب تو سمع وفہم سب کچھ حاصل، جس طرح انھیں امام ابن الہمام نے د ربارہ تلقین منکرین پر اعتراض کیا کہ:

الاانہ علی ھذا ینبغی التلقین بعد الموت لانہ یکون حین ارجاع الروح [2]۔

مگر اس بنیاد پر تو بعد موت تلقین ہونی چاہئے اس لیے کہ وہ اعادہ روح کے وقت ہوتی ہے۔ (ت)

یہ اعتراضات اس تقدیر باطل یعنی انکار سماع ارواح پر اصل سے اس کلام مشائخ کو باطل وازبیخ کندہ کرتے ہیں بخلاف اس تقدیر حق کے کہ صرف سماع جسم سے انکار مرادہے، اب ان میں اصلا کچھ وارد نہیں ہوتا۔

فاقول: وباللّٰہ التوفیق (میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ تعالٰی سے ہے۔ ت) تقریر کلام مشائخ اعلام یہ ہے کہ مبنائے ایمان عرف پر ہے اور خطابات عرفیہ متعلق بدن مگر کلام بے سمع وفہم نامتصور، لاجرم یہ قسم حالتِ حیات پر مقصور اور جسم خالی معزول ومہجور کہ بعد فراق روح بدن مردہ ہے اور اس کے حواس ومشاعر باطل وافسردہ، عذاب قبر اگرچہ روح وبدن دونوں پر ہے مگر اس کے لیے بدن کو ایك نوع حیات تازہ بقدر الم دی جاتی ہے مگر موت تواس قدر احساس وادراك کے منافی ہے پھر اس حیات کا استمرار بھی ضرور نہیں ، احادیث کثیرہ کہ سمع وبصرہ فہم وادراك ومعرفت اموات پر ناطق ہے ضرور صادق ہیں۔ ان میں مراد ارواح موتٰی ہیں کہ ادراك حقیقتًا روح ہی کا کام ہے اور اسے موت نہیں، نہ موت بدن سے میں تغیر آئے، البتہ احادیث خفق نعال ضرور سمع جسمانی بتاتی ہیں، قطع نظر اس سے کہ لفظ میّت بدن میں حقیقت، ان میں صراحۃً اذا وضع فی قبرہ (جب وہ قبر میں رکھا جاتا ہے۔ ت) ار شاد ہوا، اورقبر میں رکھا جانا بدن ہی کی شان ہے مگر یہ بھی بوجہ مذکور ہم پر وارد نہیں نسخہ میں تحریر نہیں کہ اس وقت بغرض سوال بدن کی طرف اعادہ حیات ہوتاہے تو سماع حی کے لیے ثابت ہوا نہ کہ میّت کے لیے، اور احادیث قلیب اگر چہ حیات معادہ للسوال سے جدا ہیں کہ اول تو کافر مجاہر سے سوال ہونے میں کلام ہے۔ امام ابو عمر ابن عبدالبر نے فرمایا: سوال یامومن سے ہوگا یا منافق سے کہ بظاہر مسلمان بنتا تھابخلاف کافر ظاہر کہ اس سے سوال نہیں، امام جلیل جلال سیوطی نے فرمایا: ھو الارجح ولا اقول سواہ[3] نقلہ فی ردالمحتار (یہی ارجح ہے اور میں اس کے سوا کا قائل نہیں اھ اسے ردالمحتارمیں نقل کیا۔ ت) شرح الصدور میں اس کی تائید کرکے


 

 



[1] تفہیم المسائل عدمِ سماع موتٰی ا ز کتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص٨١

[2] فتح القدیر باب الجنائز مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢/٦٩

[3] ردالمحتار صلٰوۃ الجنائز مصطفی البابی مصر ١/٦٢٩

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن