30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیہ وسلم مامن احد یمر بقبر اخیہ المومن کان یعرفہ فی الدنیا فیسلم علیہ الاعرفہ وردّ علیہ السّلام [1]۔ |
فرمایا: جو شخص بھی اپنے کسی ایسے مومن بھائی کی قبر سے گزرتا ہے جو اسے دنیا میں پہچانتا تھا اور اسے سلام کرتا ہے تو صاحب قبر اسے پہچانتا ہے اور اس کے سلا م کا جواب دیتا ہے۔ |
شاہد ٢٥: انھیں کا قول ٨٢ دیکھو کہ اموات زائروں کا سلام سنتے، جواب دیتے، ان سے انس پاتے ہیں، پھر فرمایا: اس میں نہ شہیدوں کی خصوصیت، نہ کسی وقت کی قید، خدا را انصاف! یہ علماء سماع روح کے منکر ہونگے، حاش ﷲ حاش للہ، ولکن الوھابیۃ قوم یعتدون (مگر وہابیہ ایسے لوگ ہیں جو حد سے تجاوز کرتے ہیں، ت) پچیس شاہد ہیں اور پچیس سو ممکن مگر علماء اپنا لکھا خود نہ سمجھتے تھے لاجرم قطعا یقینا وہ ارواح موتٰی کے لیے سمع وبصر وعلم وفہم مانتے اور بدنِ مردہ کو جب تك مردہ رہے ان صفات سے معزول جانتے ہیں،یہی بعینہٖ ہمارا مذہب اور یہی عباراتِ علماء کا مطلب والحمدﷲ رب العٰلمین۔
دلیل ١٢: اگر یہ کلام مشائخ کرام روح پر محمول ہوتو وہ اعتراضات قاہرہ وارد ہوں جن سے رہائی ناممکن الحصول ہو، مثلًا:
اولًا حدیث ٤٠ سے ٥١ تك انھیں بارہ١٢ احادیث عظیمہ صحیحہ خفق نعال وقلیب بدر سے ایرا دجلیل اور ادعائے تخصیص وقت سوال قبر یا خصوصیت کفا رمقتولین بدر باطل وبے دلیل کما سمعت (جیسا کہ سن چکے۔ ت)مرقات شرح مشکوۃ میں فرمایا
|
یردہ ان الاختصاص لایصح الابدلیل وھو مفقود ھھنا بل السوال والجواب ینا فیانہ ٢[2]۔ |
اس کی تردید اس سے ہوتی ہے کہ خصوصیت بغیر کسی دلیل کے صحیح نہیں اور دلیل یہاں مفقود ہے بلکہ سوال و جواب تو اس کے منافی ہیں۔ (ت) |
ثانیا یہاں خصوصیت سہی اور جو ا حادیث کثیرہ عمومًا ومطلقًا اموات کے علم وسمع وبصر وادراك ومعرفت میں وارد ہیں ان سے کیا جواب ہوگا، مرقاۃ میں ہے:
|
مع ان ماورد من السلام علی الموتی یرد علی التخصیص باول احوال الدفن [3]۔ |
باوجود یکہ مُردوں پر سلام کے بارے میں جوا حادیث وارد ہیں وہ اول وقت دفن سے تخصیص کی تردید کرتی ہیں۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع