30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لتبکی فتستعین لہ صویحبۃ فیا عباد اﷲ لاتعذبوا موتاکم ١ [1]۔ |
علیہ وسلم کی جان پاك ہے کہ تمھارے رونے پر تمھارا مردہ رونے لگتا ہے، تو اے خدا کے بندو! اپنی اموات کو عذاب نہ کرو، |
شاہد ٨: علامہ شربنلالی نے غنیہ ذوی الاحکام میں قولِ درر :
|
الایلام لایتحقق فی المیّت وکذا الکلام لان المقصود بھذالافہام والموت ینا فیہ [2]۔ |
الم رسانی میّت کے اندر متحقق نہیں، اسی طرح گفتگو بھی، کیونکہ اس کا مقصودِ افہام اور سمجھانا ہوتا ہے، موت اس کے منافی ہے۔ (ت) |
پر تقریر کی اور خود فر مایا:
|
الاصل فیہ ان کل فعل یلذو یولم ویغم ویسر یقع علی الحیات دون الممات [3]۔ |
اس بارے میں اصل یہ ہے کہ ہر وہ فعل جس سے لذت والم اور غم وسرور ہو وہ حیات ہی پر واقع ہوگا موت پر نہیں۔ (ت) |
اور قول ٣٢ میں ان کا ارشاد بحوالہ حضرت استاذ سن چکے کہ مردوں کو جوتوں کی پہچل سے اذیت ہوتی ہے۔
شاہد ٩: قول ٥١ دیکھو کہ گھاس اور پیڑ کی تسبیح سے مردہ کا جی بہلتا ہے۔
تنبیہ: فتاوٰی قاضی خاں وامداد الفتاح ومراقی الفلاح علامہ شرنبلالی وغیرہا میں مقبروں سے درخت و گیاہِ سبز کاٹنے کی کراہت پر دلیل مذکور قائم فرمائی اور جس غافل غیر ماؤف الدماغ کے سامنے ان الفاظ کو بیان کیجئے کہ فلاں کی تسبیح سے فلاں کا جی بہلا، اس کا ذہن قطعًا اس طرف جائے گا کہ اس نے اس کی تسبیح سنی اور اس سے انس ملا، بداہت عقل شاہد ہے کہ کسی شے سے انس پانے کو اس پر اطلاع ضرور، اور تسبیح جنس کلام سے ہے جس پر اطلاع بطور سماع تویہ کلام علماء صراحۃ سماع موتٰی کی دلیل صاف ہے بلکہ اس درجہ قوت قویہ سمع کی جو عامہ احیاء کو حاص نہیں کما نبھنا علیہ سالفا (جیسا کہ پیچھے ہم نے اس پر تنبیہ کی۔ ت) تو صاحب تفہیم المسائل کا خبط کہ اس کلام کو ہر گز مطلب سے آشنائی نہیں، پھر کہا:
|
بایددید کہ ایں عبارت را از سماعتِ موتٰی چہ مناسبت [4]؟ |
دیکھنا چاہئے کہ اس عبارت کو مردوں کے سننے سے کیا مناسبت ہے؟ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع