30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتا ہے۔ امام اجل ابو زکریا نووی سے نقل فرماتے ہیں:
|
حکی عن طائفۃ ان معناہ انہ یعذب بسماع بکاء اھلہ علیہ ویرق لھم وقال والی ھذا ذھب محمد بن جرید الطبری وغیرہ قال القاضی عیاض وھو اولی الاقول واحتجوا بحدیث فیہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم زجر ا مرأۃ من البکاء علی ابنھا وقال ان احدکم اذابکی استعبرلہ صویحبہ فیاعباداﷲ لاتعذ بوا اخوانکم ١ [1]۔ |
یعنی امام ممدوح نے ایك جماعت علماء سے نقل فرمایا کہ معنٰی حدیث یہ ہیں کہ لوگ مردے پر جو روتے ہیں مردے کو ا ن کا رونا سن کر صدمہ ہوتا ہے اور ان کے لئے اس کا دل کڑھتاہے، امام محمد نے فرمایا محمد بن جرید طبری وغیرہا اسی طرف گئے، امام قاضی عیاض نے فرمایا یہ سب قولوں سے بہتر ہے، اور اس پر ایك حدیث سے دلیل لائے کہ ایك بی بی اپنے بیٹے پر رو رہی تھیں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انھیں منع کیا اور فرمایا:"جب تم میں کوئی روتا ہے تو اس کے رونے پر مردے کے بھی آنسو نکل آتے ہیں تو ا ے خدا کے بندو! اپنے بھائیوں کو تکلیف نہ دو۔" |
یہ تو ان ائمہ سے نقل تھی اور اس سے پہلے خود امام عینی فرماچکے ہیں :
|
اما تصور البکاء من المیّت فقد ورد نی حدیث ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ان احد کم اذ ابکٰی استعبرلہ صویحبہ والمراد والمراد بصویحبہ المیّت [2]۔ |
یعنی میّت کا رونا متصور ہے کہ ایك حدیث میں آیا ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی روتا ہے تواس کا ساتھی وہ مردہ بھی رونے لگتا ہے، (صویحیب سے مراد میّت ہے) |
ﷲ انصاف! یہی علماء میں جوارحِ موتٰی کے سماع وفہم سے انکار رکھتے ہیں ۔
فائدہ: یہ بی بی حضرت قیلہ بنت مخرمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما ہیں، اور یہ حدیث ابوبکر بن ابی شیبہ وطبرانی نے ان سے روایت کی وہ خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھیں اپنے ایك بیٹے کو یاد کرکے روئیں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا طریقہ ہے کہ دنیا میں زندگی تك کو اپنے ساتھی سے اچھا سلوك اور مرے پیچھے ایذا دو،
|
فوالذی نفس محمد بیدہ ان احد اکن |
قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اﷲ تعالی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع