30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بتوفیق اﷲ تعالٰی ہم نے ذکر کیا کہ ضرب میں درد، کلام میں فہم، بوسے میں لذت، جماع میں قضائے شہوت درکار ہے۔ اور یہ امور بدن کے ان صفات پر مقصود کہ بہ تبعیت روح اسے حاصل ہوتے ہیں لہذا بعد موت جسم خالی انھیں کافی نہیں بخلاف غسل وحمل ومس والباس کہ صرف صفاتِ اصلیہ بدن کے طالب ہیں تو ان میں حیات وموت یکساں ۔
دلیل ۱۱: ان ائمہ کرام وعلمائے اعلام کا یہ کلام ارواح موتی پر حمل کرنا صراحۃً باطل وتوجیہ القول بما لا یرضی بہ القائل ہے ان کے کلمات عالیات بہزار زبان اس سے تحاشی فرما رہے ہیں شواہد سنئے:
شاہد ١: امام اجل ابو البرکات نسفی قدس سرہ کا ارشاد اسی
کافی شرح وافی سے ابھی گزرا کہ روحیں نہیں مرتیں۔
شاہد ٢: خود عقائد کی کتاب میں ارشاد فرمایا کہ روح میں مرگ سے کچھ تغیر
نہیں آتا کیا وہ اسی روح کو کہیں گے کہ مرگئی، فہم وادراك کے قائل نہ رہی، یہ کچھ
ہوا ا ور تغیر نہ آیا، وائے جہالت!
شاہد ٣: یہی امام ابن الہمام اور ایك یہی کیا تمام علمائے اعلام زیارت قبور میں اموات پر سلام اور ان سے خطاب وکلام تسلیم فرماتے ہیں اور اسے سنت بتاتے ہیں، فتح القدیر میں ہے :
|
یکرہ النوم عندالقبر وقضاء الحاجۃ بل اولٰی وکل مالم یعھد من السنۃ والمعھود منھا لیس الازیارتھا والدعاء عندھا قائما کما کان یفعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الخروج الی البقیع ویقول السلام علیکم دار قوم مومنین وانا ان شاء اﷲ بکم لا حقون اسئل اﷲ لی ولکم العافیۃ [1]۔ |
قبرکے پاس سونا مکروہ ہے اور قضائے حاجت بھی بلکہ بدرجہ اولٰی مکروہ ہے۔ اورہر وہ کام جو سنت سے معہود نہ ہو، اور سنت سے معہود یہی زیارت اور وہاں اکھڑے ہو کر دعا ہے جیسا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بقیع تشریف ارزانی میں کیا کرتے تھے اور کہتے تم پر سلام ہوا ے اہل ایمان لوگو! اور ہم بلاشبہ تم سے ملنے والے ہیں اگر اﷲ نے چاہا۔ میں اپنے لیے اور تمھارے لئے عافیت مانگتا ہوں ۔ (ت) |
فصل یاز دہم میں گزرا کہ یہ سلام وکلام ضرور دلیل سماع وافہام ہیں، مگر یہ اکابر اعلام معاذا ﷲ اتنی تمیز نہ رکھتے تھے کہ اینٹوں پتھروں سے سلام وکلام کیا معنی ؟
شاہد٤: یو ں ہی جس نے زیارت حضرات شیخین کریمین رضی اﷲ تعالٰی عنہما ذکر کی بالاتفاق ان سے علاوہ سلام و کلام بھی تعلیم کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ موجہہ اقدس حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اتنا ہٹے کہ صدیق (رضی اﷲ تعالٰی عنہ) کے مواجہے میں آجائے اس وقت ان سے یوں عرض کرے۔ پھر ان کے مواجہہ سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع