30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاالحیات المطلقۃ وقیل یوضع فیہ الحیاۃ من کل وجہ[1]۔ |
کہ اسے الم کا احساس ہو، حیات مطلقہ نہیں رکھی جاتی، اور کہا گیا کہ اس میں پورے طور پر زندگی رکھ دی جا تی ہے۔(ت) |
مستخلص میں بعد عبارت مسطورہ ہے :
|
وعذاب القبر یوضع حیاۃ جدیدۃ فیہ وھو قول عامۃ العلماء خلافا لابی الحسن الصالحی عــــہ فان عندہ ویعذب المیّت من غیر حیاتہ [2]۔ |
عذاب قبر بدن میں ایك نئی زندگی رکھنے سے ہوتاہے، اسی پر عامہ علماہیں بخلاف ابوالحسن صالحی کے ، اس کے نزدیك بغیر زندگی کے میّت کو عذاب قبر ہوتا ہے۔ (ت) |
اور بالیقین یہ شان بدن ہی کی ہے کہ اسے موت عارض ہوتی اور اس کا حس وادراك باطل کرتی، پھر معاذاﷲ تعذیب کے لیے الگ گونہ حیات دی جاتی ہے اور وہ بھی کاملہ نہیں ہوتی بخلاف روح کہ اس کی حیات مستمرہ ہے۔ امام ابن الہمام نے ا س مضمون کو خوب صاف فرمادیا، بعد عبارت مزبورہ لکھتے ہیں:
|
لانہ لایحس ولذا کان الحق ان المیّت المعذب فی قبرہ توضع فیہ الحیاۃ بقدر مایحس بالاَلم، حتی لو کان متفرق الاجزاء بحیث لایتمیز الاجزاء بل ھی مختلطۃ بالتراب فعذب |
اس لیے کہ اس میں احساس نہیں۔ اس لیے حق یہ ہے کہ جس مردے کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے اس کے اندراتنی زندگی رکھ دی جاتی ہے کہ وہ الم کا احساس کرے، یہاں تك کہ اگراس کے اجزا اس طرح بکھر گئے |
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)طرف نسبت کرکے اس بلفظ قیل نقل کیا حالاناکہ فقیر کافی میں جمہور کے نزدیك اعادہ حیات اور اس کی دلیل لکھ کر انھیں سے وہ دونوں قول حیاتِ خفیفہ وحیات کاملہ کے یکساں طور پر نقل کیے کہ :
|
ثم اختلفوا فقیل توضع فیہ الحیاۃ بقدر مایتألم لاالحیاۃ المطلقۃ، وقیل توضع فیہ الحیاۃ من کل وجہ [3] اھ |
پھر علماء مختلف ہوئے بعض نے کہا اس میں اس قدر زندگی رکھ دی جاتی ہے کہ اسے الم کا احساس ہو حیات مطلقہ نہیں رکھی جاتی، اور بعض نے کہا کہ اس میں پورے طور پر زندگی رکھ دی جاتی ہے اھ (ت) |
اسی طرح علامہ عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں فرمایا فلیتنبہ ۱۲ منہ (م)
|
رجل من المعتزلہ الیہ تنسب الفرقۃ الصالحیۃ ۱۲منہ (م) |
یہ معتزلہ میں سے ایك شخص ہے جس کی طرف فرقہ صالحیہ منسوب ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع