30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی فتح القدیر میں ہے :
|
لا یتحقق فی المیّت لانہ لایحس ١[1]۔ |
میّت کے حق میں متحقق نہیں اس لیے کہ وہ احساس نہیں رکھتا۔ (ت) |
اسی مائۃ مسائل میں عینی شرح کنز میں ہے :
|
الضرب ایقا ع الا لم وبعد الموت لایتصور [2]۔ |
ضرب کا معنی تکلیف پہنچانا اور بعد موت یہ متصور نہیں۔ (ت) |
تو قطعا ثابت وہ بدن ہی میں کلام کر رہے ہیں کہ وہی ایسا میّت ہے جسے نہ حس رہتا ہے نہ ادراک، بخلافِ روح کہ اس کے ادراك قطعًا باقی ہے، خود یہی امام نسفی عمدۃ الکلام میں فرماچکے : الروح لا یتغیر بالموت [3] (روح موت سے متغیر نہیں ہوتی۔ ت)
دلیل ٧: پھر جب اس تقریر پر شبہہ وارد ہوا کہ جب حس نہیں، تالم نہیں، تو عذاب قبر کیسا ! تو ان حضرات نے یہی جواب دیا کہ معاذ اﷲ جس پر عذاب قبر ہوتا ہے اسے قبر میں یك گونہ حیات دی جاتی ہے جس سے الم پہنچنے کے قابل ہو جاتا ہے،
اسی مائۃ مسائل میں عینی سے بعد عبارت مذکورہ ہے :
|
ومن یعذب فی القبر یو ضع فیہ الحیاۃ علی الصحیح [4]۔ |
جسے قبر میں عذاب دیا جاتا ہے صحیح قول یہ ہے کہ اس میں زندگی پیدا کردی جاتی ہے۔ (ت) |
اسی میں کافی عــــہ سے ہے :
|
عند العامۃ یوضع فیہ الحیاۃ بقدر مایتألم |
جمہور کے نزدیك اس میں اس قدر زندگی رکھ دی جاتی ہے |
عــــہ: لطیفہ: مائۃ مسائل میں یہ کافی کی عبارت اسی طرح نقل کی جس سے وہم ہو کہ جمہور علماء کے نزدیك قبر میں بدن کی طرف عود حیات صرف ایك خفیف طور پر ہوتا ہے، حیات کامل ملنا قولِ بعض ومرجوح ہے کہ اسے عامہ کی(باقی اگلے صفحہ پر)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع