30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وافی تھے مگر خود نفس مسئلہ میں انھیں علماء کرام کے کلام ودیگر ابحاث مقام اور ان کے رد واحکام ونقص وابرام یك زبان اس معنٰی پر شہود وعدول تو قبول واجب اور عدول مخذول۔ مثلا:
دلیل٤: بحث دیکھئے ، کاہے کی ہے؟ ایمان کی۔ اور باجماع حنفیہ وتصریحات علمائے مذکورین وغیرہم ان کا مبنی عرف اور عرف میں انسان وزید و آن وتوسب کامورد بدن تو قسم اسی پر صادق، اور یہ داوری و چالشگری اس سے متعلق۔
دلیل ٥: پر ظاہر کہ اول تا اخر ان کا کلام موت میں ہے، اور میّت نہیں مگر بدن، خود اسی کا فی شرح وافی میں اسی بحث ایمان میں فرمایا :
|
الروح لایموت لکنہ زال عن قالب فلان واﷲ تعالٰی قادر علی اعادتہ[1]۔ |
یعنی روح میّت نہیں وہ تو صرف بدن سے جدا ہوگئی ہے اور اﷲ تعالٰی قادر ہے کہ اسے دوبارہ بدن میں لے آئے۔ |
دلیل ٦: ساتھ ہی دلائل میں صاف تحریر فرماتے ہیں کہ جس میّت میں ان کا کلام ہے وہ وہی ہے جسے ادراك نہیں، جسے فہم نہیں، جسے درد نہیں پہنچتا، جو بے حس ہے۔ کتب خمسہ مستند مائتہ مسائل میں ہے :
|
واللفظ للرمز، الکلام للافھام فلا یتحقق فی المیّت [2]۔ |
اور الفاظ رمز الحقائق شرح کنز الدقائق للعینی کے ہیں: کلام سمجھانے کے لئے ہوتا ہے تو میّت کے حق میں ثابت نہ ہوگا۔ (ت) |
فتح القدیر میں ہے: والموت ینا فیہ [3] (اور موت اس کے منافی ہے۔ ت)اسی مستخلص الحقائق میں بہ تبعت ہدایہ ہے :
|
من قال ان ضربتك فعبدی حر فھو علی الضرب فی الحیاۃ فلو مات ثم ضرب لا یحنث لان الضرب اسم لفعل مؤلم یتصل بالبدن والایلام لایتحقق فی المیّت[4]۔ |
کسی نے کہا اگر میں نے تجھے مارا تو میرا غلام آزاد ہے۔ یہ قسم زندگی کے اندر مارنے پر محمول ہوگی، اگر اسی کے مرجانے کے بعد مارا تو حانث نہ ہوگا، اس لیے کہ مارنا بدن سے متعلق الم رساں کام کا نام ہے اور الم رسانی میّت کے حق میں متحقق نہیں۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع