30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خامسًا :قطع نظر اس سے کہ اگر اس واقعہ میں اس افادے کے لیے یہ کلام پاك اترتا تو فاطر والی آیت یانمل و روم میں کی ایك کافی تھی، انك لا تمسع جُدا اور ماانت بمسمع الگ اترنے کی کیا حاجت تھی؟ نمل وروم کی دونوں آیتیں تو حرف بحرف ایك ہی ہیں صرف زیادت فاکا فرق ہی، اس کے کیا معنی تھے کہ جبریل اس واقعہ پر انکار کے لیے ایك بار انك لاتسمع آخر تك سناتے پھر اس وقت"فانك لاتسمع"آخرتك سناتے، لاجرم ان میں کی ایك کسی دلیل سے اپنے محل سورت سے جدا نہیں ہوسکتی، اور جب مکہ معظمہ میں پیش ہجرت انکار اتر چکا تھا تو اب سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا اس پر بقسم اصرار کیا احتمال رکھتا تھا!
سادسًا :ظاہر حس وعقل بالبداہۃً جسم میّت کے معطل وبے حس ہونے پر شاہد ہے اگر کسی وقت اس کا مدرك ہونا ثابت ہوتو یہ قطعا امور غیبیہ سے ہے، اب سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا قسم کھا کر اس غیب پر حکم فرمانا پھر قرآن عظیم کا معاذ اﷲ اس کے خلاف پر آنا دوصورتوں کے سوا ممکن نہیں، یا تواولًا عیاذاﷲ حضور پر نور صلوات اﷲ وسلامہ علیہ نے رجما بالغیب کلام فرمادیا یا اپنی طرف سے غیب پر حکم لگادیا یا یوں کہ اول اسی طرف سے خبر غیب معاذا ﷲ خلاف واقع آئی، پھر اس کا رَد اُترا، تمھارا ایمان ان دونوں میں سے جسے قبول کرے مانو ۔
سا بعًا :اگر بفرض غلط یہ روایت غریبہ خاملہ صحیح بھی ہو تو قطعا یقینا حتما جزما آیات مذکورہ آیت کریمہ ©"6K*Ý2K*¤6¬J©"6h^A L*[1](تو انھیں تم نے قتل نہ کی بلکہ اﷲ نے ان کو قتل کیا۔ اور تم نے کنکریاں نہ پھینکیں جب پھینکیں لیکن اﷲ نے پھینکیں۔ ت)کے باب سے ہیں جن میں معاذاﷲ ہر گز اپنے نبی کریم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کی قسم پر وہ انکار نہیں بلکہ یوں ارشاد ہوتا ہے کہ یہ جوا جسام مردہ تمھارا کلام سن رہے ہیں یہ تم نے انھیں نہ سنایا بلکہ خدا نے سنایا ان اﷲ یسمع من شیاء و ما انت بمسمع من فی القبور یہ اسی کی قدرت سے ہوا کہ ان خالی بدنوں میں روح نے عود کیا جس کے آتے ہی گئے ہوئے ہوش وحواس بدن کے پھر درست ہوگئے، اب یہ روایت بھی ہماری دلیل ہے اور تفہیمی ملا کے فہم خوار وذلیل والحمد ﷲ الھادی الٰی سواء السبیل (اور خدا ہی راہ راست کی ہدایت دینے والا ہے۔ ت) خیر بات دور پہنچی اور اب صاحب تفہیم داخل من فی القبور تو سماع قبول سے قطعا مہجور، لہذا اصل سخن کی طرف عنان گردانی کیجئے، کلام مشائخ دوبارہ اجسام موتٰی ہونے پر شواہد وا سانید میں یہ تین امور بالائی کافی و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع