30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے خصم ہی کا کلام دیکھا ہوتا، مولانا علی قاری کی عبارت نقل کی تھی :
|
ھذہ المسائل کلھا ذکرھا السیوطی فی کتابہ شرح الصدور فی احوال القبور بالاخبار الصحیحۃ والاٰثار الـصریحۃ ۔ |
یعنی یہ سب مسائل امام سیوطی نے شرح الصدور میں صحیح حدیثوں صریح روایتوں سے بیان کئے ۔ |
شیخ محقق کی عبارت منقول تھی :
|
بالجملہ کتاب و سنت مملو ومشحون اند باخبار و احادیث کہ دلالت مے کند بروجود علم مرموتٰی رابد نیا و اہل آں پس منکر نہ شود آں رامگر جاہل باخبار ومنکر دین [1] |
بالجملہ کتا ب وسنت ایسی اخبار واحادیث سے لبریز ہیں جن میں دلیل ہے کہ مردوں کو دنیا و اہل دنیا سے متعلق علم ہوتا ہے، توا س کا منکر وہی ہوگا جو احادیث سے جاہل اور دین کا منکر ہو۔ (ت) |
ثالثًا: کیا مولانا قاری وشیخ محقق نے احادیث سلام و حدیث ترمذی عن ام المومنین دربارہ خطاب بہ میّت وغیرہا سے استدلال نہ کیا تھا۔ یا یہ سب بھی طبقہ رابعہ میں داخل اور ان پر اعتماد مردود وباطل۔
رابعًا: کتب سیوطی میں جو کچھ ہے کیا سب طبقہ رابعہ سے ہوتا ہے یا یہاں خاص ایسا ہے؟ اور جب دونوں باتیں بداہۃً باطل، تو طبقہ رابعہ کا ذکر مہمل ولاطائل۔
خامسًا : احادیث طبقہ رابعہ جس طرح تصانیف امام ممدوح میں مذکور ہوئیں یو نہی عامہ ائمہ کی تالیف میں، اورخود یہ بلکہ ان سے نازل ترکی احادیث و روایات حجۃ اﷲ البالغہ وقرۃ العینین وازالۃ الخفاء وتفسیر عزیزی وتحفہ اثنا عشریہ وغیرہا تصانیف ہر دو شاہ صاحب میں کہ یہی ا س تقسیم طبقات کے موجد و قائل ہیں تو وہ تو دہ بھری ہیں ۔
سادسًا :لطف یہ کہ خود انہی شاہ عبدالعزیز صاحب نے خودا سی مسئلہ سماع موتٰی میں خود انہی احادیث سے استناد کیا۔ اسی طرح شرح الصدور شریف کا حوالہ دیا کہ:
|
تفصیل آں دفتر طویل مے خواہد درکتا ب شرح الصدور فی احوال الموتٰی والقبور کہ تصنیف شیخ جلال الدین سیوطی است ودیگر کتب حدیث باید دید [2]۔ |
اس کی تفصیل ایك طویل دفتر کی طالب ہے شیخ جلال الدین سیوطی کی تصنیف شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور اور دوسری کتب حدیث دیکھنا چاہئے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع