30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علماء حتی الامکان کلمات ائمہ میں توفیق وتطبیق محمود ومقصود، اور بے ضرورت داعیہ ابقائے خلاف ونزاع جس کے باعث خواہی نخواہی ای گروہ ائمہ کا کلام غلط باطل ٹھہرے مطرود ومردود، اور یہ توفیق کہ بتوفیق الٰہی ہم نے ذکرکی واضح وصریح اور تخالف مفقود، تو لاجرم اسی کی طرف مصیر لازم، اور یہ راہ خلاف بند و مسدود ۔
دلیل ۲: خلاف وتطبیق درکنار ثقات علماء اثبات سماع موتٰی پر اجماع اہلسنت نقل فرماچکے ، کیا معاذا ﷲ انھیں جزاف وکذب کی طرف نسبت کرسکتے ہیں یا اکثر مشائخ حنفیہ عیاذًا با ﷲ ایسے بے مقدار و ناقابل شمار کہ ان کے خلاف کو لاشیئ ٹھہرا کرعلماء ادعائے اجماع رکھتے ہیں، لاجرم سبیل یہی ہے کہ باہم خلاف ہی نہیں اجماع نسبت ارواح اور قول مشائخ نسبت اشباح۔
دلیل٣:جب احادیث کثیرہ وافرہ صریحہ متوافرہ سماع موتٰی پر بے تخصیص و تقیید قوت ایسی نا طق جن میں ذی انصاف ودین کو مجال تاویل وتبدیل نہیں تو کیا مقتضائے حق شناسی حضرات مشائخ ہے کہ اپنی بات بنانے کے لیے خواہ مخواہ ان کا کلام مخالف احادیث سید الانام علیہ وعلٰی آلہ الصلٰوۃ والسلام ٹھہرائے اور وہ بھی کسی جرأت کے ساتھ کہ خاص اخبار متعلقہ بغیب وبرزخ کا مقام اور خود اراشادات صریحہ نبی لاریب امین الغیب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے خلاف کلام وان ھذا الابلاء لا یحتمل وعنأ لایرم (یہ ایسی بلاء ہے جو اٹھنے والی نہیں اور ایسی تکلیف جو ٹلنے والی نہیں۔ ت)رہا وہابی قنوج رفو خواہ مائۃ مسائل صاحب تفہیم المسائل کا تعصب کہ:
|
آنچہ از ملا علی قاری و شیخ عبدالحق آوردہ ہمہ ہا از شرح صدور نقل می کنند و مایہ تصانیف شیخ جلال ا لدین سیوطی کتب احادیث طبقہ رابعہ است وایں احادیث قابل اعتماد نیستند [1]۔ |
جو کچھ ملا علی اور شیخ عبدالحق سے نقل کیا ہے سب شرح الصدور سے ناقل ہیں اور شیخ جلا ل الدین سیوطی کی کتابوں کا سرمایہ طبقہ رابعہ کی احادیث ہیں اور یہ حدیثیں قابل اعتماد نہیں۔ (ت) |
اقول اولًا : شدت تعصب نے صحیح بخاری وصحیح مسلم کی احادیث جلیلہ کو شاید دیکھنے نہ دیا۔ ان پر بھی طبقہ رابعہ کا حکم ہوگیا۔ کیا علی قاری و شیخ محقق نے ان سے استناد نہ کیا یا آپ نے ان کے کلاموں کا جواب دے لیا، شرم شرم شرم ! ہا ں مجھی کو سہو ہوا جواب کیوں نہ دیا، وہ دیا کہ عقل وحیا دیانت سب کو جواب دیا۔ اخر کلام میں اسے بھی سن لیجئے۔
ثانیًا: یہاں ان کے علاوہ اور حدیثیں بھی تھیں کہ ائمہ فن نے جن کی تصحیحیں کیں، زیادہ علم نہ تھا تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع