30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان ارواح اٰل فرعون فی اجوان طیر سود یعرضون علی النار کل یوم مرتین تغدو و تروح الی النار فیقال یا اٰل فرعون ھذہ مأوٰکم حتی تقوم الساعۃ [1]۔ |
فرعونیوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے پیٹ میں ڈال کر انھیں روزانہ دوبار نار پر پیش کیا جاتا ہے، صبح وشام کو نار کی طرف جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے اے فرعون والو! یہ تمھارا ٹھکانا ہے یہاں تك کہ قیامت قائم ہو۔ (ت) |
فرعون اور فرعونیوں کو ڈوبے ہوئے کتی ہزار برس ہوئے ہر روز صبح وشام دو وقت اگ پر پیش کیے جاتے ہیں جہنم جھنکا کر ان سے کہا جاتا ہے یہ تمھارا ٹھکانا ہے یہاں تك کہ قیامت آئے۔ اور ایك انھیں پرکیا موقوف ہر مومن و کافر کو یونہی صبح وشام جنت ونار دکھاتے اور یہی کلام سناتے ہیں صحیح بخاری صحیح مسلم وموطائے امام مالك و جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اذامات احدکم عرض علیہ مقعدہ، بالغداۃ والعشی، ان کان من اھل الجنۃ فمن اھل الجنۃ وان کان من اھل النار فمن اھل النار یقال لہ ھذا مقعدك حتی یبعثك اﷲ الی یوم القیامۃ ٢[2]۔ |
جب تم میں سے کوئی مرتا ہے اس پر اس کا ٹھکانا صبح وشام پیش کیا جاتا ہے، اگر اہل جنت سے تھا تو اہل جنت کا مقام اور اہل نار سے تھا تو اہل نار کا مقام دکھا یا جاتا ہے اس سے کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تك کہ خدا تجھ کو روز قیامت اس کی طرف بھیجے۔ (ت) |
یو نہی اموات کی باہم ملاقات، آپس کی گفتگو ، قبر کا ان سے باتیں کرنا، ان کی حد نگاہ تك کشادہ ہونا احیاء کے اعمال انھیں سنائے جانا، اپنے حسنات وسیئات اور گاؤماہی کا تماشا دیکھنا وغیرہ وغیرہ امور کثیر جن کی نظر صدر مفصد دوم میں اشارہ گزرا، جن کے بیان میں دس بیس نہیں صدہا حدیثیں وارد ہوئیں ان مطالب پر شاہد ہیں جس طریقے سے ہو ان چیزوں اور آوازوں کو دیکھتے سنتے ہیں اور قیامت تك جس کے گلنے خاك میں ملنے کے بعد بھی دیکھیں سنیں گے، یونہی زائروں قبروں کے سامنے گزرنے والوں اور ان کے کلام کو۔ طرفہ یہ کہ مولوی اسحاق صاحب نے بھی جواب وسوال ١٩ میں تسلیم کیا مردے زندوں کا سلام سنتے ہیں۔ حضرت! جن کانوں سے سلام سنتے ہیں انہی سے کلام ۔ یہ تو ہماری طرف سے کلام تھا، اب جانب منکرین نظر کیجئے ان کا انکار بھی قطعا عام ہے، صرف آلاتِ جسمانیہ سے خاص نہیں، کاش وہ ایمان لے آئیں کہ اموات اصوات کا ادراك تام کرتے ہیں مگر نہ گوشِ بدن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع