30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من الشھادۃ"اشھدان لاالٰہ الااﷲ واشھدان محمد عبدہ، ورسولہ"[1]۔ |
پورا کلمہ شہادت ہے۔
|
حلیہ امام ابن امیرالحاج میں ہے :
|
ولقن شھادۃ ان لاالٰہ الااﷲ وان محمدارسول اﷲبان یقال عندہ وھویسمع ولایقال لہ قل واذاقالھما لایلح علیہ بتکریرھما اذالم یخض فی کلام اٰخر لمخافۃ تبرمہ[2] ۔
|
میّت کو لاالٰہ الااﷲ محمدرسول اﷲ کی تلقین کریں یوں کہ خود اس کے پاس پڑھیں کہ وُہ سُن کر پڑھے، اوریوں نہ کہیں کہ کہہ ،اور جب دونوں جُز کلمہ کے کہہ لے تو اُس سے دوبارہ کہنے کا اصرار نہ کریں کہ کہیں اکتا نہ جائے، ہاں کلمہ پڑھنے کے بعد کوئی اوربات اس نے کی تو پھر تلقین کریں کہ آخر کلام لا الٰہ الااﷲ محمدرسول اﷲ ہو۔ |
مستصفی میں ہے :
|
لقن الشہادتین لا الٰہ الااﷲ محمد رسول اﷲ٣[3]۔ |
دونوں شہادتیں تلقین کی جائیں لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
اشعۃ اللعمات شرح مشکوٰۃ میں ہے :
|
لقنواموتاکم لا الٰہ الااﷲ تلقین کنید مردہائے خودرایعنی آنہاکہ نزدیك بمردن رسیدہ اند کلمہ طیبہ را[4]۔ |
اپنے مُردوں کو جو مرنے کے قریب پہنچ گئے انہیں کلمہ طیبہ یاد دلاؤ۔(ت) |
غرض نقل مستفیض سے ہے، اورمسئلہ واضح اوراسلامی نگاہ میں شیطانی قول اپنے قائل کا فاضح،ہاں بعض متاخرین شافعیہ نے یہ کہاکہ صرف لاالٰہ الااﷲ کہنے پر ثواب موعود مل جائے گا،معاذاﷲ وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ مرتے وقت محمد رسول کہنا منع ہے یہ ممانعت محض مردودومطرودوخلافِ اجماع ہے۔
|
فالعلامۃ الشرنبلالی من متاخری علمائنا مع تقریرہ الدررعلی ماقدمناہ اجاب عن تعلیلھا ان الاولٰی لاتقبل |
ہمارے علمائے متاخرین میں سے علامہ شرانبلالی نے دُرر میں مذکورہ حکم -دونوں شہادتوں کی تلقین -کو تو برقرار رکھا مگر اس میں حکم کی جو علّت ذکر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع