30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحبت اتش وانگشت ہے، کوئلہ کالا ٹھنڈا تاریك تھا اور نار دخانی گرم و روشن ، جب تك اگ کی سرایت سے دہك رہاتھا اس کے نیچے اپنے عیوب چھپے ہوئے تھے آگ ہی کے اوصاف سے موصوف ہوتا جب آگ جدا ور برکران ہوئی اصل حقیقت عیان ہوئی تو ایمان اگر چہ عرف پر مبنی ہیں اور عرفًا انسان خواہ بلفظ انسان وبشرو آدمی تعبیر کیا جائے یا اعلام وضمائر واسماء اشارہ سے اس کا معبرعنہ یہی بدن ہوتا ہے مگر بنظر تقسیم مذکور امور محلوف علیہا کی طرف نظر ضرور ، اگر صفات اصلیہ پر مقصودہو، جیسے اٹھانا ، بٹھانا،نہلانا و غیرہ توکچھ حالت کی تخصیص نہ ہوگی کہ نفس بدن کا ان کا صالح ہے، اور اگر صفاتِ تبعیہ پرموقوف ہو جیسے خطاب و اعلام و افہام و کلام، تو ضرورۃ متقید بحال حیات رہے گا کہ بغیر ان کے بدن ان کا صالح نہیں، بالجملہ انسان کا عرفًا بدن میں حقیقت ہونا اور معنی حقیقی عرفی میں استعمال کیا جانا زنہار اسے مقتضٰی نہیں کہ وہ کلام بدن کی ہر حالت کو مشتمل رہے یا بعض احوال پراقتصار کے باعث حقیقت عرفیہ سے منسلخ ہو کر کسی اور معنی پر محمول بنے بلکہ وہی مراد ہو کہ بات جس حال کے قابل ہوگی اسی قدر کو شامل ہوگی مثلًااگر کہئے زید نے کوئلے سے بدن جلالیا تو قطعا اس سے وہی دہکتا ہو اکوئلہ مراد ہوگا کہ جلانے کی صلاحیت اسی میں ہے۔ اس سے نہ یہ لازم کہ مطلق کوئلہ اس سے مفہوم ہو نہ یہ کہ کوئلہ اپنے معنی حقیقی سے محروم ہو وھذا کلہ ظاہر جدا (اور یہ سب بہت واضح ہے۔ ت) بحمدﷲ تعالٰی یہ معنٰی ہیں اس ضابطے کے جو علماء نے یہاں ارشاد فرمایا، اور تنویر الابصار ودرمختار وشروح کنز وغیرہ میں مذکور ہو اکہ:
|
ماشارك المیّت فیہ الحی یقع الیمین فیہ علی الحالتین، وما اختص بحالۃ الحیاۃ تقید بھا[1]۔ |
جس امر میں میّت زندہ کا شریك ہو اس میں قسم دونو ں حالتوں پر واقع ہوگی اور جو حالتِ حیات سے خاص ہو اس میں قسم حالتِ زیست سے مقید رہے گی۔ (ت) |
مقدمہ سابعہ : اقول: مناظرات میں وقت و اطاعت کہ راہ پاتی ہے بیشتر اصل مقصد ومورد نزاع سے غفلت کے باعث منہ دکھاتی ہے، فریقین اس کے پابند رہیں، یہ تو معلوم ہو کہ اہل باطل اکثر اصل مطلب سے فرار ہی میں مفر مگر اہل حق پرا س کا خیال لازم، ہر وقت پیش نظر رکھیں کہ بحث کیاتھی اور چلے کدھر، اس میں باذن اﷲ تعالٰی تخفیف مؤنت او ر مخالف کے عجز و سکوت جلد ظاہر ہونے پر معونت ہوتی ہے، اس مسئلہ دائرہ سماع موتی میں مقصود اہلسنت کچھ اس پر موقوف نہیں کہ تمام اموات کیے بدن ہی قبر میں ہمیشہ زندہ رہیں زائروں کے سلام وکلام وہ انہی کا نوں کے ذریعہ سے سنیں ہوائے متموج متکیف بالصوت انہی کے پٹھوں کو کرے، اسی طریقے پر سماع ہو، یونہی رؤیت عامہ اموات میں، ہماری اس سے کوئی غرض متعلق نہیں کہ وہ انہی انکھوں سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع