30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول: وھذالجواب احسن مماقدم قبلہ حیث قال، فان قالوا ھذہ الاٰیۃ حجۃ علیکم لانہ تعالٰی قال"SÍ!"¡6 ,=n)c) وکلمۃ من للتبعیض وھذا یدل علی ان الانسان بعض من ابعاض الطین، قلنا کلمۃ"من"اصلھا لابتداء الغایۃ کقولك خرجت من البصرۃ الی الکوفۃ فقولہ تعالٰی ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین، یقتضی ان یکون ابتداء تخلیق الانسان حاصلان من ھذہ السلالۃ ونحن نقول بموجبہ لانہ تعالٰی یسوی المزاج اولا ثم ینفخ فیہ الروح فیکون ابتداء تخلیقہ من السلالۃ [1] اھ قلت وقدیستأنس لہ بقولہ تعالٰی csÍ!"Ú'Â6 '= [2]، فافھم۔ |
اقول یہ جواب اس سے بہتر ہے جو اس سے پہلے ذکر فرمایا ہے کہ اگر وہ کہیں کہ یہ آیت تمھارے خلاف حجت ہے اس لیے کہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بے شك ہم نے انسان کو پیدا کیا ایك خلاصہ سے جو مٹی سے ہے۔ کلمہ مِنْ (سے) تبعیض کے لئے ہے۔ اور یہ بتاتا ہیے کہ انسان مٹی کا ایك جُز اور بعض ہے ___ ہم جواب دیں گے کہ کلمہ مِنْ کی اصل ابتدائے غایت کے لئے ہے جیسے تم کہتے ہو میں بصرہ سے کوفہ گیا، تو ارشاد باری (ہم نے انسان کو پیدا کیا ایك خلاصہ سے جو مٹی سے ہے) اس کا مقتضی ہے کہ تخلیق انسان کی ابتداء اس خلاصے سے ہوتی ہے (ختم) قلت اس جو اب کے لئے اس ارشاد سے استیناس ہوتاہے : اور انسان کی تخلیق مٹی سے شروع کی، تو اسے سمجھو۔ (ت) |
بالجملہ خلاصہ مبحث یہ ہوا کہ اطلاق انسان کے لیے دو حقیقتیں ہیں:ا یك حقیقت اصلیہ دقیقہ یعنی روح متعلق بالبدن اگر چہ بتعلق برزخی،د وم۲ حقیقت مشہور عرفیہ یعنی بدن، اور اکثر متکلمین کے زعم میں یہی حقیقت اصلیہ ہے، اور اگر غرابت فنِ سے قطع نظر کرکے ان کا کلام انسان عرفی پر محمول کریں تو وہ بھی صحیح ۔
مقدمہ سادسہ: اقول: صفات بدن دو۲ قسم ہیں: ۱اصلیہ کہ خود بدن کے لئے حاصل اور ۲ تبعیہ کہ حقیقۃً صفات روح ہیں، اور بوجہ اتحاد مذکور بدن کی طرف منسوب جیسے علم و سمع وبصر و ارادہ و فاعلیت افعال اختیاریہ وغیرہا، عر ف میں اگرچہ انسان نامِ بدن ٹھہرا مگر صفات تبعیہ کی اس کی طرف اضافت مشروط بشرط حیات ہے، بعد موت بے عود حیات بدن خالی کو عرفًا لغۃً کسی طرح سمیع وبصیر مرید فاعل عامل نہیں کہتے کہ یہ نسبتیں اس اتصال سریانی پر مبنی تھیں جس نے روح وبدن کو عرفًا امر و حدانی کردیا تھا، جب وہ مسلوب ہو ا کشف محجوب ہوا، صفات تبعیہ حق بہ حقدار رسید ہوکر اپنے مرکز کو گئیں اور اس تودہ خاك کو اپنی اصلی حالتیں ظاہر ہوئیں، نظیر اس کی وہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع