30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کر دیا اب اسے آگ ہی کہا جاتا ہے ،یونہی جسم کو انا الانسان کا دعوٰی پہنچتا ہے۔ ہم سنتا، دیکھتا، بولتا، چلتا، پھرتا کام کرتا بدن ہی دیکھتے ہیں حالانکہ مدرك و فاعل روح ہے اور بدن آلہ، لہذا بدن پر اطلاق انسان حقیقت عرفیہ عــــہ قرار پایا اور وہی تمام صفات وافعال کا منسوب الیہ ٹھہر اور قرآن عظیم بھی مطابقت عرف پر اترا،
|
قال تعالٰی 7Sèç'b½kX2[1]۔ |
باری تعالٰی فرماتا ہے: بے شك وہ حق ہے اس کے مثل جو تم بولتے ہو۔ (ت) |
اب نہ تجوز ہے نہ استخدام، نظیر اس کی"رأیت زیدًا"ہے زید را دیدم، زید کو دیکھا، حالانکہ زید اگرچہ اس سے بدن ہی مراد لیجئے ہر گز ہمیں مرئی نہیں،مرئی صرف رنگ و سطح بالائی ہے اور وہ قطعا نہ روح زید ہے نہ بدن، مگر شدت اتصال کی باعث اسے رؤیت زید کہتے ہیں اور ہر گز اس میں تجوز و مخالفت حقیقت کا توہم بھی نہیں کرتے یہاں تك کہ اگر کوئی زید کے رنگ و سطح کو یونہی دیکھے اور قسم کھا ئے میں زید کو نہ دیکھا قطعًا کاذب سمجھا جائے گا، لاجرم تفسیر کبیرمیں روح کے غیر جسم ہونے پر کلام واسع ومشبع لکھ کر فرماتے ہیں :
|
اعلم ان اکثر العارفین المکاشفین من اصحاب الریاضات وارباب المکاشفات والمشاھدات مصرون علی ھذ القول جاز مون بھذا المذھب، واحتج المنکرون بقولہ تعالی من ای شیئ خلقہ من نطفۃ خلقہ ھذا تصریح بان الانسان مخلوق من نطفۃ وانہ یموت ویدخل القبر ولو لم یکن عبارۃ عن ھذہ الجنۃ لم تکن الاحوال المذکورۃ صحیحۃ والجواب انہ لما کان الانسان فی العرف والظاھر عبارۃ عن ھذہ الجثۃ اطلق علیہ اسم الانسان فی العرف٢[2] اھ مختصرًا |
معلوم ہو ا کہ اہل ریاضت اور ارباب کشف ومشاہدہ میں سے اکثر عرفاء مکاشفین اس قول پر اصرار اور اس مذہب پر جزم رکھتے ہیں__ اور منکرین نے باری تعالٰی کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے اسے کس چیز سے پیدا کیا، نطفہ سے، یہ اس بات کی تصریح ہے کہ انسان نطفہ سے پیدا کیاگیا ہے اور وہی مرنے والا اور قبر میں جانے والا ہے، اگر انسان جسم وجُثہ سے عبارت نہ ہو تومذکورہ احوال صحیح نہ ہوں گے، جواب یہ ہے کہ نہ عرف اورظاہر میں انسان اس بدن سے عبارت تھا تو عرفًا ا س پر لفظِ انسان اطلاق ہوا۔ (ختم باختصار) |
عــــہ: عرف تو عرف اس شدت اختلاط وعدم تمایز بحد اتحاد نے سفہائے فلاسفہ کو دھوکا دیا جو ہمیشہ تدقیق کے نام پر جان دیتے اور فضول تعمقات کو تحقیق جانتے ہیں۔ وہ بھی کہاں، خاص مقام تحدید میں انسان کی تعریف کر بیٹھے حیوان ناطق ، حالانکہ حیوانیت بدن کے لئے ہے کہ وہی جسم نامی اور ناطق ومدرك روح، بلکہ خود حیوان ہی کی تعریف میں خلط ہے، جسم نامی متحرك بدن ہے اور حساس ومدید روح ۱۲منہ (م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع