30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الخامس تعلقھا بہ یوم البعث وھو اکمل انواع التعلقات ولانسبۃ لماقبلہ الیہ اذ لایقبل البدن موہ موتا ولانوما ولا فسادا [1] اھ وتبعہ القاری فی منح الروض، اقول: الکلام فی الانواع المتغائرۃ ولا یظھر للتعلق الرحمی تـغایر مع الذی بعد الولادۃ فان کلیھما تعلق الاتصال المحـض والتدبیر والتصرف الناقص بخلاف النومی فلایتمخص للاتصال، والبرزخی فلیس مع ذٰلك تعلق التدبیر و الاٰخروی فلانقص فیہ اصل فیتحصل التقسیم ھکذا التعلق اما ممتمحض للاتصال اولا الاول ان کمل بحیث لایقبل الفراق فاخروی ، والا فدنیوی ، یقظی، والثانی ان کان تعلق تدبیر فنومی اولا فبرزخی فان قیل لیس یستعمل الجنین الاتہ وجوارحہ فی الاعمال و الادراك مثل المولود قلت لایستعملھا المولود من ساعتہ کالفطیم ولا الفطیم کالیافع ولا الیافع کمن بلغ اشدہ ولاکمثلہ الشیخ الھرم ثم الفانی ، فلیجعل عامۃ ذلك تعلقات متغائرۃ فافھم۔[2] |
بدن کی طرف اسے کوئی نہ رہ گیا ہو__ پانچواں روز بعث کا تعلق۔ وہ سب سے زیادہ کامل تعلق ہے جس سے ماقبل کے تعلقات کو کوئی نسبت نہیں، اس لئے کہ اس تعلق کے ساتھ بدن، موت، خواب اور فساد تغیر قبول نہیں کرتا اھ اور منح الروض میں علامہ قاری نے بھی اسی اتباع کیا ___ اقول: گفتگو الگ الگ اور جداگانہ تعلقات کے بارے میں ہے ___ جب کہ شکم مادر والے تعلق کی، بعد ولادت والے تعلق سے کوئی مغایرت ظاہر نہیں___ اس لئے کہ دونوں صورتوں میں خالص اتصال اور تدبیر وتصرف کا ناقص تعلق ہے۔ اس کے برخلاف حالت خواب کے تعلق میں خالص اتصال نہیں۔ من وجہ فراق بھی ہے۔ اور برزخ والے تعلق میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ تدبیر کا تعلق نہیں___ اور آخرت والے تعلق میں بالکل کوئی نقص نہیں__ تو تقسیم اس طرح حاصل ہوگی، تعلق یا تو خالص اتصال رکھتا۱ہے یا۲نہیں ___ اوّل اگر ایسا کامل ہے کہ جدائی قبول نہ کرے تو اُخروی ___ ورنہ دنیوی جو بیداری میں ہو___ اور ثانی اگر تدبیر کا تعلق ہے تو خواب والا ہے اور تدبیر والا نہیں تو برزخی ہے ___ اگر یہ اعتراض ہو کہ شکم کا بچہ افعال اور ادراك میں اپنے آلات وجوارح کو پیداشدہ بچے کی طرح استعمال نہیں کرتا (اس فرق کی وجہ سے دونوں کو دو۲ شمار کیا گیا) ہمارا جواب یہ ہوگا کہ اس وقت مولود بچہ بھی اپنے اعضاء وجوارح کوا س بچے کی طرح استعمال نہیں کر تا جو ۱دودھ چھوڑ چکا ہو، اور دودھ چھوڑنے والا ۲نوجوان یا قریب البلوغ کی طرح اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع