30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الصانع الحکیم وقول تعالٰی (*Ï"ºv) اشارۃ الی الاستدلال باحوال نفسہ علی وجود الصانع الحکیم [1] الخ |
اشارہ ہے۔ اور ارشاد باری (پھر جبھی وہ کُھلا جھگڑنے والا ہے) روح انسان کے احوال سے صائع حکیم کے وجود پر استدلال کی جانب اشارہ ہے۔ الخ (ت) |
اقول: وباﷲ التوفیق ( میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالٰی سے ہے۔ ت) آیات کریمہ قران اعظم و محاورات عامہ شائعہ تمام عالم کے ملاحظہ سے بنگاہ اولین ذہین میں منقش ہوتاہے کہ جسے انسان کہتے ہیں اور زید عمر و اعلام یا من وتوضمائر یا این وآن اسمائے اشارہ سے تعبیر کرتے ہیں، اس میں روح وبدن دونوں ملحوظ ہیں، ایك یکسر معزول ہو ایسا ہر گز نہیں، اب خواہ یوں ہو کہ ہر ایك نسخ حقیقت انسانی میں داخل وجزوِ حقیقی ہو یا یوں کہ ایك سے تجوہر حقیقت اور دوسرے کو معیت وشرطیت مگر ساتھ ہی عقل ونقل کی طرف نظر کیجئے تو ان کا اجماع و اطباق دیکھتے ہیں کہ انسان ایك شیئ مدرك عاقل فاہم مرید مکلف من اﷲ تعالٰی ہے، اور یہ صفات اس کے لیے حقیۃ ثابت ہیں کہ نہ موصوف بالذات کوئی شئی غیر ہو اور اس کی طرف بالتبع بالعرض نسبت کئے جاتے ہوں، اس بیّن و واضح امر کی طرف التفات کرتے ہیں منجلی ہوگیا کہ جس طرح قولین اولین میں تجرد وتمخص بہ معنی بشرط لاشیئ مراد لینا کسی عاقل سے معقول نہیں، اگر ہے تو لابشرط، اوریہ معنی منقول نہیں کہ روح بدن میں کوئی لحاظ سے بلکل معزول نہیں، ا ور قول اول تو اس کا قابل نہیں کہ انسان عاقل ہے اور ابدان ذوی العقول نہیں، انسان مالك و متصرف ہے بدن کی طرح آلہ ومعمول نہیں، یوں ہی یہ بھی روشن ہوگیا کہ قول اخیر میں مجموع سے مراد بشرط شیئ ہے نہ ترکب نفس حقیقت، ورنہ انسان عاقل ومدرك نہ رہے کہ مجموع مدرك ونامدرك نامدرك ہے اور لازم آئے کہ آیات ومحاورات عامہ خواہ مدنیات ہو ں جن میں موصوف بصفات جسم کو انسان کہا گیا یا روحیات جن میں صفات نفس سے انسان کو متصف کیا۔ خواہ جامعات جن میں دونوں کو اجتماع دیا سب یکسر حقیقت سے معزول اور مجاز پر محمول ہوں کہ اب انسان نہ روح نہ بدن بلکہ شی ثالث ہے، لاجرم مجموع کا محمل اول مراد نہیں ہوسکتا۔
|
ومن الدلیل علیہ قول الامام ابی طاھر"بما فیہ من المعانی"فما کان لعا قل ان یتوھم دخول الاعراض فی قوام جوھر وانما المراد الدخول فی اللحاظ وکذا تنصیص الامام الرازی علی الترکیب مع اعطائہ مرارا |
اس کی ایك دلیل امام ابو طاہر کے یہ الفاظ ہیں (ان تمام معانی کے ساتھ جو اس میں ہیں) کہ اسے کوئی عاقل یہ وہم نہیں کرسکتا کہ اعراض ایك جوہر کی حقیقت میں داخل ہیں مراد صرف لحاظ میں داخل ہونا ہے، اسی طرح مرکب ہونے پر امام رازی کی تصریح، جب کہ ان کے کلام سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع