30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والجھۃ والجواب منع الاشتراط[1]۔ |
اس لیے کہ وہ جہت اور مکان سے پاك ہے۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ مقابلہ کا شرط رؤیت ہونا ہم نہیں مانتے۔ (ت) |
امام نسفی مصنف کافی مذکور نے عمدۃ الکلام میں فرمایا:
|
ماقالوا من اشتراط المقابلۃ وغیرہ یبطل برؤیۃ اﷲ تعالٰی ایانا [2]۔ |
یہ جو کہا گیا کہ رویت کے لئے مقابلہ وغیرہ شرط ہے۔ اس دلیل سے باطل ہے کہ خدائے تعالٰی ہمیں دیکھتا ہے اور مقابلہ وغیرہ بالکل نہیں ۔ (ت) |
روح ملاصق بالبدن کا سمع وبصر بروجہ اول ہے اور مفاق کا از قبیل دوم ،
|
کل ذٰلك علی الاغلب و الافربما یحس الملاصق بنورہ کما فی کشوف الاولیاء والمفارق بالاٰلات الباقیۃ الدائمۃ کما فی الانبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام، ومعنی المفارقۃ فیھم طریان الفراق اٰنی تحقیقا للوعد الربانی ۔ |
یہ سب حکم اکثری ہے ورنہ بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کہ بدن سے متعلق روح اپنے نور کے ذریعہ احساس کرتی ہے جیسا کہ اولیاء کرام کے کشف میں ہوتا ہے۔ اور بدن سے مفارق روح ان آلات کے ذریعہ احساس کرتی ہے جو باقی ودائم ہوتے ہیں جیسے حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے احساسات میں ہوتا ہے، اور ان کے حق میں بدن سے روح کی مفارقت کا معنی، بس ایك آن کے لئے جدائی کا طاری ہونا تا کہ وعدہ الٰہیہ (ہرنفس کے لئے موت) کا تحقیق ہوجائے۔ (ت) |
اور اس معنی سے انکار کی منکران سماع موتٰی کو بھی گنجائش نہیں کہ آخر رؤیت جنت و نار ونعیم وعذاب و سماع وکلام ملائکہ ماننے سے چارہ کہا، اور جب جسم معطل اور آلات مختل تو یہی ظاہر و عیاں ، وسیأتی تفصیلہ عنقریب انشاء القریب (ان شاء اﷲ اس کی تفصیل عنقریب آئیگی۔ ت) اور یہاں ایك تیسرے معنی مجازی اور ہیں یعنی رائی ومرئی و سامع وسموع میں بروجہ آلیت واسطہ ہونا اور صور جزئیہ کا مدرك تك پہنچانا یہ اس وقت مراد ہوتے ہیں جب سمع وبصر بدن کی طرف مضاف ہو، کما بیناہ فی المقدمۃ الثانیۃ (جیسا کہ دوسرے مقدمہ میں ہم نے اسے بیان کیا۔ ت) خواہ بروجہ اثبات، اور یہ ظاہر ہے خواہ بہ ضمن سلب جہاں سلب مقتصر نامستمر ہے لتضمنہ الاثبات کما لا یخفی (اس لئے کہ وہ اثبات کو متضمن ہے جیسا کہ واضح ہے۔ ت)
مقدمہ خامسہ: قرآن واحادیث نصوصِ شرعیہ ومحاورات عرفیہ سب میں ا نسان طرف صفات روح وجسم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع