30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی کی شرح منح الروض میں ہے :
|
(اعادۃ الروح) ای ردھا وتعلقھا (الی العبد) ای جسدہ بجمیع اجزانہ او ببعضھا مجتمعۃ او متفرقۃ (فی قبرہ حق) والواولمجرد الجمعیۃ فلا ینا فی ان السوال بعد اعادۃ الروح وکمال الحال [1]۔ |
(روح کا اعادہ) یعنی اسے لوٹا نا اور اس کا تعلق ہونا (بندے کی طرف) یعنی اس کے بدن کی طرف، جو اپنے تمام اجزاء کے ساتھ ہو یا بعض کے ساتھ ہو یہ مجتمع ہوں یا منتشر ہوں (اس کی قبر کے اندر حق ہے) اور"واو"محض جمیعت کے لئے ہوتا ہے تو اس کے منافی نہیں کہ سوال روح لوٹانے اور حالت کامل ہوجانے کے بعد ہوگا۔ (ت) |
اسی میں ہے :
|
اعلم ان اھل الحق اتفقوا علی ان اﷲ تعالٰی یخلق فی المیّت نوع حیاۃ فی القبر قدر مایتألم ویتلذذ ولکن اختلفوا فی انہ ھل یعاد الروح الیہ والمنقول عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ التوقف الا ان کلامہ ھنا یدل علی اعادۃ الروح اذ جواب الملکین فعل اختیاری فلا یتصور بدون الروح وقیل قد یتصور[2] الخ |
جان لو کہ اہل حق کا اس پر اتفاق ہے کہ اﷲ تعالٰی میّت کے اندر قبر میں ایك طرح کی زندگی پیدا کردیتاہے ۔ اتنی کہ وہ لذت و الم کا احساس کرے، مگر اس میں ان کا اختلاف ہے، کہ اس کی جانب روح لوٹائی جاتی ہے یا نہیں، اور امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے منقول یہ ہے کہ توقف کیا جائے۔ مگر یہاں پر ان کا کلام اعادہ روح پر دال ہیے اس لیے کہ نکیرین کا جواب ایك فعل اختیاری ہے تو وہ بغیر روح کے متصور نہیں اور کہا گیا کہ متصور ہے۔ (ت) |
امام ابن الہمام اسی فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
|
الحق ان المیّت المعذب فی قبرہ توضع فیہ الحیاۃ بقدر ما یحس الالم والبدنیۃ لیست بشرط عند اھل السنۃ حتی لوکان متفرق الاجزاء بحیث لاتتمیز الاجزاء بل ھی مختلطۃ بالتراب فعذب جعلت الحیاۃ |
حق یہ ہے کہ قبر میں عذاب دئے جانے والے مردے کے اندر اتنی زندگی رکھی جاتی ہے کہ وہ الم کا احساس کرے اور یہ بدن اس کے لئے شرط نہیں یہاں تك کہ اگر اس کے اجزء اس طرح بکھر چکے ہوں کہ امتیاز نہ ہوسکے بلکہ مٹی سے خلط ملط ہو گئے ہوں پھر عذاب دیا جائے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع