30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عذاب جو کچھ ہے روح وجسم دونوں پر ہے۔امام جلیل جلال الدین سیوطی شرح الصدور میں فرماتے ہیں:
|
عذاب القبر محلہ الروح والبدن جمیعا باتفاق اھل السنۃ وکذا القول فی التنعیم ١ [1]۔ |
باتفاق اہل سنت عذاب قبر اور اسائش قبر کا محل روح اور بدن دونوں میں ہیں، (ت) |
اور اس پر شرع مطہرہ سے نصوص کثیرہ وشہیرہ متواتر دال ہیں جن کے استقصا کی طرف راہ نہیں، اسی کتاب کی احادیث مذکورہ میں بکثرت اس کے دلائل ہیں کما تری، اسی طرح سوال نکیرین بھی روح وبدن دونوں سے ہے۔ شرح فقہ کبر میں ہے :
|
لیس السوال فی البرزخ للروح وحدھا کما قال ابن حزم وغیرہ منہ قول من قال انہ للبدن بلاروح والاحادیث الصحیحۃ ترد الاقولین [2]۔ |
برزخ میں تنہا روح سے سوال نہیں جیسے ابن حزم وغیرہ کا قول ہے اور اس سے زیادہ فاسد اس کا قول ہے جو کہتا ہے کہ سوال صرف بدن بے روح سے ہے۔ صحیح احادیث دونوں قولوں کی تردید فرماتی ہیں۔ (ت) |
اور جماد میں حیث ہو جماد سے سوال یا اسے لذت، خواہ الم کا ایصال، بداہۃً محال، لاجرم وقت سوال بدن کو ایك نوع حیات کی عود سے چارہ نہیں، اگر چہ ہم اس کی کیفیت جزمًانہ جانیں، امام اجل ابوالبرکات نسفی عمدۃ الکلام میں فرماتے ہیں :
|
عذاب القبر للکفار ولبعض العصاۃ من المؤمنین والانعام لاھل الطاعۃ، باعادۃ الحیاۃ فی الجسد وان توقفنا فی اعادۃ الروح حق ٣[3]۔ |
کفار اور بعض گنہگار مومنین کے لیے عذاب قبر اور اہل طاعت کے لیے اسائش وانعام حق ہے اس طرح کہ جسم میں زندگی لوٹادی جائے اگر چہ روح کے لوٹانے میں ہمیں توقف ہو۔ (ت) |
امام الائمہ مالك الازمہ سید نا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ فقہ اکبر میں فرماتے ہیں :
|
سوال منکر ونکیر فی القبر حق واعادۃ الروح الی العبد فی قبر حق [4]۔ |
قبر میں منکر نکیر کا سوال حق ہے، اور قبر میں بندے کی طرف روح کا اعادہ حق ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع