30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ برتقدیر مجاز عقلی ہے اور محتمل کہ مجازی الطرف ہویعنی روح پر اطلاق اذن کما فی قول تعالٰی ZM"¯^;[1] ( جیسا کہ اس ارشاد باری میں: فرماؤ تمھارے لیے وہ بھلائی کے کان ہیں۔ ت)نعمائے جنت کی حدیث میں ہے: ما لا عین رأت ولااذن سمعت [2](جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا۔ ت) صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم جب تاکید توثیق روایت چاہتے فرماتے: ابصرت عینای وسمع اذنای ووعاہ قلبی[3] ( میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سُنا اور میرے دل نے اسے سمجھا۔ ت)تفسیر کبیر میں ہے :
|
التحقیق ان الانسان جوھر واحد وھو الفعال وھو الدراك وھو المؤمن وھو الکافر وھو المطیع وھوالعاصی، وھذہ الاعضاء اٰلات لہ وادوات لہ فی الفعل فاٰضیف الفعل فی الظاھر الی الاٰیۃ وھو فی الحقیقۃ مضاف الی جوھر ذات الانسان [4]۔ |
تحقیق یہ ہے کہ انسان ایك جوہر ہے وہی کام کرنے والا ہے وہی سمجھنے والا ہے، وہی ایمان لانے والا ہے، وہی اطاعت کرنے والا ہے، وہی نافرمانی کرنے والا ہے،۔ اور یہ اعضاء کام میں اس کے آلات واسباب ہیں تو ظاہر میں کام کی نسبت آلہ کی طرف کی گئی اور حققیت میں وہ اسی جوہر ذات انسان کی طرف منسوب ہے۔ (ت) |
مقدمہ ثالثہ: جب باجماع اہل حق روح کے لیے موت نہیں، اور تمام کُتب عقائد میں تصریح اور شرح مقاصد کی عبارت فصل دوم نوع اول مقصد سوم میں گزری کہ اہل سنت کے نزدیك جسم شرط حیات نہیں، معتزلہ اس میں خلاف کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ادراکات تابع حیات ہیں کما نص علی فی شرح طوالع الانوار اللعلامۃ التفتازانی وللاصفھانی وشرح الموافق للسید الجرجانی (جیسا کہ علامہ تفتازانی واصفہانی کی شروح طوالع الانوار اور سید شریف جُرجانی کی شرح مواقف میں اس کی تصریح ہے۔ ت) ولہذا ہمارے نزدیك روح موت سے متغیر نہیں ہوتی اس کے کلام وادراك بدستور رہتے ہیں جس کا بیان شافی درجہ کافی فصل مذکور میں مسطور، تو روح بعد دفن فتنہ وسوال یا نعیم ونکال، کسی امر میں ہرگز اعادہ حیات کی محتاج نہیں کہ حیات وادراکات اس سے جدا ہی کب ہوئے تھے، ہاں بدن ضرور محتاج ہے۔ وجہ یہ کہ اہل سنت کے نزدیك قبر کی تنعیم یا معاذاللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع