30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
خاصہ اوست [1]اھ ملخصا۔ |
لذت والم اس کا خاصہ ہے اھ بتلخیص (ت) |
اقول اس معنٰی پرشرع سے بھی دلائل قاطعہ قائم، قرآن عظیم واجماع عقلاء دو شاہد عدل ہیں کہ انسان سمیع وبصیر ہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی Õ2 «xõ')cSÍ!"¡ ""ø÷¨ö[2]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشك ہم نے آدمی کو ملے ہوئے نطفے سے پیدا کیا تا کہ اسے جانچیں، پھر ہم نے اسے سننے دیکھنے والا بنادیا۔ (ت) |
اور عقلًا ونقلًا بدیہات سے ہے کہ انسان کی انکھ، کان انسان نہیں تو یقینا ثابت کہ یہ جسے سمیع وبصیر فرمایا چشم وگوش نہیں اور باقی اعضاء کا سمع وبصر سے بے علاقہ ہونا واضح تر، تو وہ نہیں مگر روح۔ ولہذا قرآن مجید فرماتا ہے :
|
¼ìSâá'|'¼ìSàCz'' ¤SäÝ"º|'¼ìSuãµ'|'[3]۔ |
کیا ان کے پاس پاؤں جن سے وہ چلتے ہیں، یا ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں، یا آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں، یا کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں، (ت) |
افعال وسمع وبصر کی اضافت صاحب جو ارح کی طر ف فرمائی اور جوارح پر بائے استعانت آئی، ثابت ہوا کہ فاعل و سامع وبصیر روح ہے۔ اور بدن صرف آلہ، اسی طرح تمام نصوص احوال برزخ کہ بعد فنائے بدن بقائے ادراکات پر شاہد ہیں جن سے جملہ کثیر فصول سابقہ میں گزرا سب سے ثابت کہ مدرك غیر بدن ہے۔ ہاں کبھی مجاذًا بدن کی طرح بھی بوجہ آلیت نسبت ادراکات ہوتی ہے، قال اﷲ تعالٰی ,È"ݯ^Ç [4](اﷲ تعالٰی فرماتاہے: اور کوئی سمجھ والا کان سے سمجھے۔ ت) معالم میں ہے : قال قتادۃ اذن سمعت وعقلت ماسمعت [5](حضرت قتادہ نے فرمایا: کوئی کان جو سنے اور سنی ہوئی بات کو سمجھے۔ ت)مدارك میں ہے :
|
قال قتادہ اذن عقلت من اﷲ تعالٰی و انتفعت بماسمعت [6]۔ |
حضرت قتادہ نے فرمایا:کوئی کان جس نے خدا تعالٰی سے کلام کو سمجھا اور سنی ہوئی بات سے فائدہ اٹھایا۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع