30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معرض فساد وملحق بالجماد کردے۔ موت مجازی کہ روح کے لیے ان سب آفات سے پاك ومبرا ہے۔ وﷲ الحمد والحجۃ السامیہ ۔مقدمہ ثانیہ: عاقل جانتا ہے کہ علم وادراك صفت جان پاك ہے نہ کہ وہ وصف مشتِ خاك ، قال اﷲ عزوجل:
|
¤ +O*¤r"¥"¨j [1] علی القول المختار ان المرا دبالرؤیۃ بحاسۃ البصر [2]۔ |
دل نے غلط نہ کہا اسے جو آنکھ نے دیکھا۔ یکہ معنی قول مختار کی بنیا د پر ہے کہ یہاں رؤیت سے مراد حاسہ نگاہ سے دیکھنا ہے۔ (ت) |
تفسیر کبیر میں ہے :
|
ان الانسان شیئ واحد وذلك الشی ھوالمبتلی بالتکالیف الالٰھیۃ والامورالربانیۃ وھو الموصوف بالسمع والبصر ومجموع البدن لیس کذٰلك ولیس عضو من اعضاء البدن کذٰلك فالنفس شی مغائر لجملۃ البدن ومغائر الاجزاء البدن وھو موصوف بکل ھذہ الصفات [3]۔ |
انسان ایك شی واحد ہے۔ اسی شی کا تکلیفات شرعیہ اور احکام ربانیہ سے ابتلا ہے۔ وہی سننے دیکھنے سے متصف ہے۔ اور پورا بدن یہ صفت نہیں رکھتا ، نہ ہی اعضائے بدن میں سے کوئی عضو اس وصف کا ہے۔ تو روح پورے بدن کے مغایر اور ہر جزو بدن کے مغایر ایك شے ہے۔ وہی ان تمام صفات سے متصف ہے۔ (ت) |
اس میں بعد اقامت حج کے لکھتے ہیں :
|
فثبت بما ذکرنا ان النفس الانسانیۃ شیئ واحد وثبت ان ذلك الشی ھو المبصر والسامع والشام و الذائق واللامس والمتخیل والمتفکر والمتذکر و المشتھی والغاضب وھوالموصوف بجمیع الادراك لکل المدرکات وھو موصوف بجمیع |
یہاں مذکور سے ثابت ہوا کہ روح انسانی ایك شی واحد ہے۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ وہی شی دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے، چھونے، خیال کرنے، سوچنے، یاد کرنے، خواہش کرنے، غصہ کرنے والی ہے۔ وہی تمام ادراکات سے متصف ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع