30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس کا پچھلا کلام لا الٰہ الّا اﷲ ہوتو وہ جنّت میں گیا، یہاں بھی محمد رسول اﷲ نہیں فرمایا، تو اگر لا الٰہ الّا اﷲ کے بعدغنیہ محمد رسول اﷲ کا لفظ بڑھایا جائے تورسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حکم کے خلاف ہونے کے سبب بُرا اور منع ہو۔المجیب عبدالحکیم صادق پوری۔
اس کے رَد میں مولٰنا عبدالواحد صاحب مجددی رام پوری کا رسالہ"وثیقہ بہشت"اس ساتھ تھا، تحریر فقیر بر"وثیقہ بہشت"۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم٥ اللھم لك الحمد۔ اﷲ عزّوجل خیر کے ساتھ شہادتین پر موت نصیب کرے۔ وقتِ مرگ بھی پورا کلمہ طیبہ پڑھنا چاہئے۔جو اسے منع کرتا ہے مسلمان اس کے اغواواضلال پر کان نہ رکھیں کہ وہ شیطان کی اعانت چاہتا ہے۔امام ابن الحاج مکی قدس سرہ الملکی مدخل میں فرماتے ہیں کہ دمِ نزع دو٢ شیطان آدمی کے دونوں پہلو پر آکر بیٹھتے ہیں ایك اُس کے باپ کی شکل بن کر دوسرا ماں کی۔ ایك کہتا ہے وہ شخص یہودی ہوکر مرا تو یہودی ہوجا کہ یہود وہاں بڑے چین سے ہیں۔ دوسرا کہتا ہے وہ شخص نصرانی گیا تو نصرانی ہوجا کہ نصارٰی وہاں بڑے آرام سے ہیں[1]۔ علمائے کرام فرماتے ہیں شیطان کے اغوا کے بچانے کے لئے محتضر کو تلقینِ کلمہ کا حکم ہوا۔ ظاہر ہے کہ صرف لا الٰہ الا اﷲ اس کے اغوا کا جواب نہیں، لا الٰہ الا اﷲ تویہود و نصارٰی بھی مانتے ہیں، ہاں وہ کہ جس سے اس ملعون کے فتنے مٹتے ہیں محمد رسول اﷲ کا ذکر کریم ہے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ یہی اس کے ذریات کے بھی دل میں چُبھتا جگر میں زخم ڈالتا ہے، مسلمان ہرگزہرگز اسے نہ چھوڑیں اور جو منع کرے اُس سے اتنا کہہ دیں کہ"گر بتوحرام است حرامت بادا"(اگر یہ تجھ پر حرام ہے تو حرام رہے۔ت)مجمع بحارالانوار میں ہے :
|
سبب التلقین انہ یحضرالشیطان لیفسد عقدہ، والمراد بلاالٰہ الا اﷲ الشھادتان[2]۔ |
تلقین کا سبب یہ ہے کہ اُس وقت شیطان آدمی کا ایمان بگاڑنے آتا ہے،اور لا الٰہ الّا اﷲ سے پورا کلمہ طیّبہ مراد ہے۔ |
فتح القدیر میں ہے :
|
المقصودمنہ التذکیر فی وقت تعرض الشیطان[3] ۔ |
تلقین سے مقصود تعرض شیطان کے وقت ایمان یاد دلانا ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع