30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر سفہائے غافلین کا خود حضور پر نور روح القسط روح القدس روح الارواح صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت یہ جاہلانہ وسوسہ کہ اگر وہ کسی مجلس میں تشریف لائیں تو پیش ازقیامت مرقد اطہر سے خروج لازم ہو،ا ور چاہئے کہ اس وقت روضہ انور خالی رہ جائے، محض حماقت ہے۔
اولًا :وہ روح کا جسم پر قیاس اور زندان وہم میں سلطان عقل کا احتباس۔
ثانیًا: ہوشمندوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ روحیں تو عوام مومنین کی بھی قبور میں محبوس نہیں رہتیں بلکہ اپنے اپنے مراتب کے لائق علیین یا جنت یا آسمان یا چاہ زمزم وغیرہ میں ہوتی ہیں، جسے علمائے کرام یہاں تك کہ شاہ عبدالعزیز صاحب نے بھی تفسیر عزیزی عــــہ میں مفصلًا ذکر کیا:
ثالثًا یہ اعتراض بعینہٖ ان احادیث کثیرہ پر بھی وارد جن میں صریح تصریح کہ ارواح مومنین بعد انتقال جہاں چاہیں سیر کرتی ہیں، لازم کہ جب وہ سیر کو جائیں قبریں خالی رہ جائیں اور قیامت سے پہلے حشر ہوجائے مگر جہل و تعصب جو نہ کرائیں وہ غنیمت ہے، چند سال ہوئے فقیر کے پاس ایك سوال آیا زید کہتا ہے حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم روضہ انور سے جہاں چاہتے ہیں تشریف لے جاتے ہیں، عمرو منکر ہے انا ﷲ ونا الیہ راجعون، فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ نے اس کے جواب میں مفصل فتوٰی لکھا اور وہاں اس سیر و اختیار کو شہداء وغیر شہداء عام مومنین کی ارواح کے لیے بہت حدیثوں سے ثابت کیا اور کلمات علمائے دین سے اس کے وقائع کئے۔ یہ
|
عــــہ: مقام علیین بلائے ہفت آسمان است و پائیں آن متصل بہ سدرۃ المنتہٰی وبالائے آن متصل بپایہ راست عرش مجید است و ارواح نیکاں بعد از قبض در آن جا می رسند ومقربان یعنی انبیاء واولیاء درآن مستقرمی مانند و عوام صلحا را بعد از نویسا نیدن نام و رسانیدنامہائے اعمال بر حسب مراتب در آسمان دنیا یا درمیان آسمان و زمین یا در چاہ زمزم قرار می دہند و تعلقے بقبر نیز اٰن ارواح رامی باشند [1]۔ آخر عبارتك کہ مقال ٧ میں گزری ۱۲ از تفسیر عزیزی (م) |
علیین ساتوں آسمان کے اوپر ہے اس کا زیریں حصہ سدرۃ المنتہٰی سے متصل ہے اور بالائی حصہ عرش مجید کے دائیں پائے سے متصل ہے، نیکوں کی روحیں قبض ہونے کے بعد وہاں پہنچتی ہیں اور مقربین یعنی انبیاء واولیاء اس مستقر میں رہتے ہیں، اور عام صالحین کو درج کرانے اور اعمال نامے پہنچ جانے کے بعد حسبِ مراتب آسمان دنیا، یا درمیان آسمان و زمین یا چاہ زمزم میں جگہ دیتے ہیں اور ان کو قبر سے بھی ایك تعلق رہتا ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع