30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خاتمہ رسالہ میں دربارہ سماع موتیٰ علمائے عرب کا فتویٰ
اس رسالہ کے زمانہ تالید میں فقیر کو معتبر طور پر خبر پہنچی کہ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ اگروہ ہمارے مسئلہ کا رد لکھے گا ہم دونوں تحریریں مولویان بھوپال کو بھیج دیں گے کہ وہ حکم ہوجائیں۔
اقول: تحکیم بے قبول طرفین معقول نہیں ۔ مولوی صاحب ماشاء اﷲ فاضل ہیں، یہیں کیوں نہ تصفیہ ہوجائے، طالبان تحقیق کو اظہار حق سے کیوں باك آئے، رسالہ فقیر کو ملاحظہ فرمائیں ، اگر حق واضح ہوجائے تسلیم واجب، ورنہ جواب مناسب، ہاں تحریر جواب میں استعداد و استعانت کا اختیار ہے بھوپالیوں سے ہو یا بنگالیوں سے، اور اگر اوروں ہی پر رکھنا صلاح وقت ہے تو اہل ہند میں جسے دیکھئے گا بلا مرجح خود احدالفریقین ہے۔ بھوپالیوں کو مثلًا مصطفی آبادیوں پر کیا وجہ ترجیح ہے۔ لہذا سب سے قطع نظر کرکے علمائے عرب کو حکم کیجئے کہ دین وہیں سے نکلا اور وہیں کو پلٹ جائےگا اور وہاں کے جمہور علماء پر ان شاء اﷲ تعالٰی شیطان ہر گز قابو نہ پائے گا۔ جناب مولٰنا اگر اس رائے کو پسند فرمائیں توا ن اکا برکرام کا مہری دستخطی فتوٰی بالفعل فقیر کے پاس اصل موجود، جس میں اکثر مسائل وہابیت کا رد واضح فرمایا اور طائفہ جدیدہ کو ضال مضل، مبتدع، مبطل ٹھہرایا، فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ اس میں سے چند سطریں متعلق مسئلہ سماع مع شرح ودستخط علماء بتلخیص والتقاط حاضر کرتا ہے، واﷲ الہادی اس سوال کے جواب میں کہ وہابیہ عدمِ علم وعدمِ سماع موتٰی کا ادعا واعتقاد رکھتے ہیں، فرمایا :
|
ھذا الادعاء افتراء قبیح وھذا الاعتقاد اعتداء صریح فان العلماء المحققین من الحنفیۃ و الشافعیۃ وغیرہم قد اثبتوا اطلاع الانسان فی البرزخ وسماعہ لسلام الزائر وکلامہ ومعرفتہ و الانس بہ بالاحادیث الصحیحۃ والاٰثار الصریحۃ و تلك المسئلۃ مع دلائلھا مصرحۃ فی المرقاۃ شرح مشکٰوۃ لعلی القاری الحنفی وشرح الصدور للحافظ السیوطی وشفاء السقام |
یعنی وہابیہ کا یہ ادعاء افترائے قبیح اور یہ اعتقاد ظلم صریح ہے۔ حنفیہ وشافعیہ وغیرہم کے علمائے محققین نے صحیح حدیثوں اور صریح خبروں سے ثابت کیا ہے کہ آدمی برزخ میں علم رکھتا اور زائر کا سلام وکلام سنتا ہے اور اسے پہچانتا ہے اور اس سے انس حاصل کرتا ہے۔ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ علی قاری حنفی وشرح الصدور حافظ سیوطی شافعی وشفار امام سبکی وغیرہا جمہور محققین کی کتب مشہورہ میں اس مسئلہ اور اس کے دلائل کی تصریح ہے یہاں تك |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع