30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ نمبر۱: از جس پور،محلہ پہاڑ گنج چوکڑی توپ خانہ ،متصل سورج پول، مرسلہ حکیم اﷲ بخش،غنیہ ١٣رمضان ١٣٣٨ھ
(١) جس وقت آدمی علیل ناقابلِ صحت مثلاً مدقوق ہوجائے ، اُمید زیست نہ رہے تو اس کو شرعاً کیا کرنا چاہئے ؟اورعزیز واقارب کو کیا کرنا چاہئے ؟
(٢) جنازے اٹھانے میں کس طرف سے سبقت کی جائے؟
الجواب:
(۱) آدمی ہر وقت موت کے قبضہ میں ہے، مدقوق اچھا ہوجاتا ہے اور وہ جو اس کے تیمارمیں دوڑتا تھا اُس سے پہلے چل دیتا ہے، ہر قت وصیّت تیار رہنی چاہئے جس میں اپنے پسماندوں کو توحیدِالٰہی عزوجل رسالت پناہی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واستقامت عقائد اہلسنّت واتباعِ شریعت واصلاحِ ذات بین،وحدت وقربِ اولیاء،ود وری وتنفراز کفاروضلال وفسق کی ہدایت ہواور بعد کو کچھ ترکہ چھوڑے تو اس کا شرعی کافی انتظام جس میں نزاع نہ رہے اور اپنی تجہیز وتکفین میں اتباع سنّت کی ہدایت،اوران پر لازم ہے کہ اس پر عمل کریں۔اورسب سے پہلے خود اپنی اصلاح، گناہوں سے توبہ، اﷲ اور رسول کی طرف رجوع،موت کا خوشی کے ساتھ انتظار کرنا کہ آتے وقت ناگواری نہ ہو،اس وقت کی ناگواری معاذاﷲ بہت سخت ہے،عیاذاً باﷲ اس میں سوءِ خاتمہ کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع