30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کا اجساد می کند وگاہی اجساد از غایت لطافت برنگ ارواح می بر آید، می گوید کہ رسول خدا را سایہ نبود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ارواح ایشاں از زمین وآسمان و بہشت ہر جاکہ خواہدن می روند و بہ سبب ہمیں حیات اجساد آنہارا ور قبر خاك نمی خورد بلکہ کفن ہم میماند، ابن ابی الدنیا از ملك روایت نمود، ارواحِ مومنین ہر جاکہ خواہند سیر کنند مراد از مومنین کاملین اند حق تعالٰی اجساد ایشاں راقوت ارواح مے دہد درقبور نماز مے خوانند و ذکر می کنند وقرآن مے خوانند [1]اھ ملخصًا۔ |
یعنی ان کی روحیں جسموں کا کام کرتی ہیں اور کبھی اجسام انتہائی لطافت کی وجہ سے روحوں کے رنگ میں جلوہ نما ہوتے ہیں___ اولیاء بتاتے ہیں کہ رسول خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا___ ان کی روحیں زمین، آسمان اور جنت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں____ اور اسی وجہ سے قبر میں ان کے جسم کو مٹی نہیں کھاتی، بلکہ کفن بھی سلامت رہتا ہے، ابن ابی الدنیا امام مالك سے راوی ہے کہ"مومنوں کی روحیں جہاں چاہتی ہے سیر کرتی ہیں۔"مومنین سے مراد کاملین ہیں، حق تعالٰی انکے اجسام کو روحوں کی قوت عطا فرماتا ہے، وہ قبر وں میں نماز ادا کرتے ہیں، ذکر کرتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں۔ (ختم بتلخیص)۔ (ت) |
مقال (٧): تفسیر عزیزی میں ارواح انبیاء واولیاء عام وصلحا علی سید ہم وعلیہم الصلٰوۃ والسلام کا ذکر کرکے کہ بعض علیّین اور بعض آسمان اور بعض درمیان آسمان و زمین اور بعض چاہ زمزم میں، لکھتے ہیں:
|
تعلقے بقبر نیز ایں ارواح رامے باشد کہ بحضور زیارت کنند گان واقارب ودیگر دوستاں بر قبر مطلع ومستانس مے گردند وزیراں کہ روح راقرب و بعدمکانی مانع ایں دریافت نمی شود ومثال آں در وجود انسان روحِ بصری ست کہ ستارہائے ہفت آسمان رادر دنِ چاہ مے تواند دید۔ [2] |
ان روحوں کو قبر سے بھی ایك تعلق رہتا ہے جس کے سبب زائرین اور عزیزوں ، دوستوں کی آمد کا انھیں علم ہوتا ہے اور ان سے انہیں اُنس حاصل ہو تا ہے اس لیے کہ مکان کی دوری ونزدیکی روح کے لیے اس ادراك سے مانع نہیں ہوتی، انسان کے وجود میں اس کی مثال رو ح بصر ہے جو ہفت آسمان کے ستارے کُنویں کے اندر سے دیکھ سکتی ہے۔ (ت) |
یہ پچھلا جملہ زیادہ قابل لحاظ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع