30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور واقعی ایسا ہی ہونا چاہئے لانعدام المخصص (کیونکہ کوئی دلیل تخصیص نہیں۔ ت)
قول (١٩١تا ١٩٨): امام اسمٰعیل پھر امام بیہقی پھرا مام سہیلی پھرامام قسطلانی پھر امام علامہ شامی پھر علامہ زرقانی نے سماع موتٰی کا اثبات کیا اور دلیل انکار سے جواب دئے کما یظھر بالمراجعۃ الی الارشاد والمواھب وشرحہا وغیر ذلك من اسفار لعلماء (جیسا کہ ارشاد الساری شرح بخاری و مواہب لدینہ شرح مواہب لدینہ اور ان کے علاوہ کتب علماء کے مطالعہ سے معلوم ہوگا۔ ت) مواہب میں امام ابن جابر سے بھی اثبات سماع نقل کیا، امام کرمانی، امام عسقلانی، امام عینی، امام قسطلانی نے شروح صحیح بخاری اور امام سخاوی، امام سیوطی، علامہ حلبی، علی قاری، شیخ محقق وغیرہم نے اس کی تخصیص فرمائی، از انجا کہ یہ اقوال ان مباحث سے متعلق جنھیں اس رسالہ میں دور آئندہ پر محمول رکھا ہے لہذا ان کی نقل عبارات ملتوی رہی وﷲ الموفق۔قول (١٩٩): جذب القلوب شریف میں ہے :
|
تمام اہل سنت وجماعت اعتقاد دارند بہ ثبوت ادراکات مثل علم وسماع مرسائر اموات را۔[1] |
تمام اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ علم اور سماعت جیسے ادراکات تمام مردوں کے لے ثابت ہیں (ت) |
قول (٢٠٠): جامع البرکات میں ہے :
|
سمہودی می گوید کہ تمام اہل سنت وجماعت اعتقاد دارند بہ ثبوت ادراك مثل علم وسمع وبصر مرسائر اموات راز آحاد بشر انتہی ٢ [2]۔ والحمد اﷲ رب العٰلمین۔ |
امام سمہودی فرماتے ہیں کہ تمام اہل سنت وجماعت کاعقیدہ ہے کہ عام افراد بشر میں سے تمام مرُدوں کے لیے ادراك جیسے علم اور سننا دیکھنا ثابت ہے۔ انتہی۔ والحمد ﷲ رب العالمین (ت) |
فقیر غفراﷲ تعالٰی نے جن سو١٠٠ ائمہ وعلماء کے اسماء طیبہ گنائے تھے بحمداﷲ ان کے اور ان کے علاوہ اوروں کے بھی اقوال عالیہ دو سو٢٠٠ شمار کردئے اور ایفائے وعدہ سے سبك دوش ہوا۔
تنبیہ: ناظرین گمان نہ کرے کہ ہمارے تمام دلائل بس اسی قدر بلکہ جو نقل نہ کیا، وہ بیشتر واکثر، پھر فقیر غفراﷲ المولے القدیر نے اس رسالہ میں یہ التزام بھی رکھا کہ جو آثار واحادیث اقوال علمائے قدیم وحدیث خاص حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حی باقی روح مجسم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حیاتِ عالی و علم عظیم وسمع جلیل وبصر کریم میں وارد انھیں ذکر نہ کرے تین وجہ سے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع