30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شہداست وحیاتِ انبیاء صلوات اﷲ تعالٰی علیہم کامل ترازحیات شہداست [1]۔ |
شہداء سے کم درجہ کی ہے اور حیات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام حیاتِ شھداء سے زیادہ کامل ہے۔ (ت) |
قول (١٨١ و ١٨٢): امام قرطبی پھر امام سیوطی قبر کے پاس قرآن مجید پڑھنے کے مسئلہ میں فرماتے ہیں :
|
وقد قیل ان ثواب القرائۃ للقاری وللمیّت ثواب الاستماع ولذلك تلحقہ الرحمۃ، قال اﷲ تعالٰی واذاقرئ القراٰن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون ولایبعد من کرم اﷲ تعالٰی ان یلحقہ ثواب القرأۃ والاستماع [2]معًا۔ |
بہ تحقیق کہا گیا کہ پڑھنے کا ثواب قاری کو ہے او رمیّت کے لیے اس کا اجر ہے کہ اس نے کان لگا کر قرآن سنا اور اس لیے ا س پر رحمت ہوتی ہے کہ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے جب قرآن پڑھاجائے تو کان لگا کر سنو اور چُپ رہو شاید تم پر مہر ہو اور کچھ یہ بھی خدا کے کرم سے دور نہیں کہ مُردے کو قرآن و استماع دونوں کا ثواب پہنچائے۔ |
اقول: ثواب قرأت پہنچنے پر جزم نہ کرنے کا باعث یہ کہ وہ شافعی المذہب ہیں اور سید نا امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیك عبادات بدنیہ کا ثواب نہیں پہنچتا مگر جمہور اہلسنت قائل اطلاق و عموم ہیں، اور یہی مذہب ہمارے امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ہے یہاں تك کہ خود محققین شافعیہ نے اس کی ترجیح وتصحیح کی منھم السیوطی فی انیس الغریب (ان میں سے ایك امام سیوطی نے انیس الغریب میں اسکی وضاحت کی ہے) تو ہمارے نزدیك شك نہیں کہ میّت کو تلاوت کابھی ثواب پہنچتا ہے۔
قول (١٨٣): مرقاۃ میں انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے علم وسماع کا ذکر کرکے فرماتے ہیں:
|
سائر الاموات ایضا یسمعون السلام والکلام ٣[3] |
سب مُردے سلام وکلام ستنے ہیں، پھر فرمایا: یہ سب مسائل احادیث صحیحہ و آثار صریحہ سے ثابت ہیں۔ |
قول (١٨٤): علامہ حلبی سیرۃ انسان العیون میں امام ابوالفضل خاتم الحقائق سے ناقل: ؎
|
سماع موتٰی کلام الخلق حق قد جائت بہ عند نا الاثار فی الکتب [4]۔ |
اموات کا کلام مخلوق کو سننا حق ہے بیشك اس باب میں ہمارے پا س کتابوں میں حدیثیں آئیں۔ |
قول (١٨٥): ملك العلماء بحرالعلوم مولٰنا عبدالعلی لکھنوی مرحوم ارکان اربعہ میں فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع