30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اومعاند وقد حرم برکۃ الاولیاء الکرام، و سئل شیخ الاسلام الشہاب الرملی الانصاری الشافعی عما یقع من العامۃ من قولھم عند الشدائد یا شیخ فلاں ونحو ذلك من الاستغاثۃ بالانبیاء والمرسلین والصالحیں فاجاب بما نصہ الاستغاثہ بالانبیاء والمرسلین والاولیاء الصالحیں جائزۃ بعد موتھم ١[1] الخ اھ ملخصا |
مرغوب ہے جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم دشمن انصاف،ا وربیشك وہ برکت اولیائے کرام سے محروم ہے۔ شیخ الاسلام شہاب رملی انصاری شافعی سے استفتاء ہو اکہ عام لوگ جو سختیوں کے وقت مثلًا یا شیخ فلاں کہہ کر پکارتے ہیں اور انبیاء واولیاء سے فریاد کرتے ہیں اس کاشرح میں کیا حکم ہے؟ امام ممدوح نے فتوٰی دیا کہ انبیاء ومرسلین واولیاء علماء صالحین سے ان کے وصال شریف کے بعد بھی استعانت واستمداد جائز ہے۔ |
قول (١٦٢): علامہ خیرالدین رملی حنفی استاذ صاحب درمختار رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہما فتاوٰی خیریہ میں فرماتے ہیں:
|
قولھم یا شیخ عبدالقادر نداء فی الموجب لحرمتہ [2] اھ ملخصا۔ |
لوگوں کا کہنا یا شیخ عبدالقادر یہ ایك نداء ہے پھر اس کی حرمت کا سبب کیا ہے۔ |
قول (١٦٣): سید احمد زروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ اکابر علماء و اولیائے دیار مغرب سے ہیں اپنے قصیدہ میں ارشاد فرماتے ہیں : ؎
|
انا لمریدی جامع لشتاتہ اذا ماسطا جورالزمان بنکبتہ وان کنت فی ضیق وکرب و وحشۃ فناد بیازروق اٰت بسرعتہ ٣[3]۔ |
میں اپنے مرید کی پریشانیوں میں جمیعت بخشنے والاہوں جب ستم زمانہ اپنی نحوست سے اس پر تعدی کرے اور اگر تو تنگی وتکلیف ووحشت میں ہو تو یوں نداء کر: یازروق، میں فورًا آموجود ہوں گا۔ |
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی صاحب اس شیر الٰہی کا حال اپنی کتاب بستان المحدثین میں یوں لکھتے ہیں :
|
شیخ اوسیدی زیتون رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ درحق اُو |
ان کے شیخ سیدی زیتون رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ نے ان کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع