30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہی اشتباہ علامہ زین بن نجیم مصری کو مسئلہ ذبیحہ میں واقع ہوا جس پر علامہ سیداحمد حموی نے فرمایا:
|
مبناھا علی الاعتزال الصریح والعجب ان المصنف لم یتفطن لہ مع ظہورہ من القنیۃ [1]۔ |
اس کا مبنٰی اعتذال پر ہے اور عجب نہ ہوا کہ مصنف کوا س پر تنبیہ نہ ہوا باآنکہ صاحب قنیہ کا معتزلی ہونا کھلا ہواہے۔ |
بالجملہ روایت کا تویہ حال ہے۔ رہی روایت، مقصد دوم میں دیکھ چکے کہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اس حدیث میں وارد جسے امام ابن الصلاح وامام ضیا ء وامام امیرا الحاج وصاحب مجمع وغیرہم، نے بوجہ شواہد وعواضدحسن وقوی کہا، پھر سیدنا ابوامامہ باہلی صحابی اور راشد وضمرہ وحکیم وغیرہم تابعین کے اقوال اس میں مروی، پھر اورصحابہ سے اس کا غلاف ہر گز ثابت نہیں، باایں ہمہ قول صحابی قبول نہ کرنا اصول حنفیہ پر کیونکر مستقیم ہوا، تقلید عــــہ صحابی ہمارے امام کا مذہب معلوم ہے۔
میزان الشیریعۃ الکبرٰی میں امام ابو مطیع بلخی سے منقول:
|
قلت للامام ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ارأیت لو رأیت رأیاو رأی ابوبکر رأیا اکنت تدع رأیك لرأیہ؟ فقال نعم فقلت لہ ارأیت لو رأیت رأیا و رأی عمر رأیا اکنت تدع رأیك لرأیہ؟ فقال نعم وکذلك کنت ادع رائی لرأی عثمان و |
میں نے امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے عرض کی: بھلا ارشاد فرمائے اگر آپ کی ایك رائے ہو اور صدیق اکبر کی رائے اس کے خلاف ہو کیا آپ اپنی رائے ان کی رائے کے آگے چھوڑدیں گے ؟ فرمایا: ہاں ، میں نے عمر فاروق کی نسبت پوچھا، فرمایا: ہاں، اور یونہی میں اپنی رائے عثمان غنی و |
عــــہ: مولانا علی قاری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ کتاب الصلٰوۃ باب الخطبہ میں فرماتے ہیں:
|
قول الصحابی حجۃ فیجب تقلیدعندنا اذا لم ینفہ شیئ اٰخر من السنۃ [2] انتھی اقول وھذا لایختص بقول الصحابی فان کل دلیل یترك لدلیل اقوی من ۱۲ منہ (م) |
صحابی کا قول حجت ہے تو اسکی تقلید ہمارے یہاں واجب ہے جبکہ کوئی حدیث اس کی نفی نہ کرتی ہو انتہٰی اقول یہ قول صحابی سے ہی خاص نہیں اس لیے کہ ہر دلیل اپنے سے قوی تر دلیل کے باعث متروك ہوگی، ۱۲منہ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع