30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں۔ ت) محقق علائی نے لا کے بعد لفظ تسن بڑھادیا (یعنی مسنون نہیں۔ ت) پھر فرمایا ولاتکرہ اتفاقا [1](مکروہ تو بالاتفاق نہیں۔ ت)طحطاوی نے فرمایا: بل لاخلاف فی انہ لوسمی لکان حسنا، نھر [2](بلکہ اس میں بھی کوئی خلاف نہیں کہ اگر بسم اﷲ پڑھاتو اچھا ہے۔ نہر۔ ت)بحرالرائق میں ہے :
|
الخلاف فی الاستنان اماعدم الکراہۃ فمتفق علیہ، ولہذا صرح فی الذخیرۃ والمجتبٰی بانہ ای سمی بین الفاتحہ والسورۃ کان حسنا عند ابی حنیفۃ[3]۔ الخ |
اختلاف مسنون ہونے میں ہے اور مکروہ نہ ہونے پر تو اتفاق ہے۔ اسی لیے ذخیرہ اور مجتبٰی میں تصریح ہے کہ اگر فاتحہ اور سورہ کے درمیان بسم اﷲ پڑھا تو امام ابوحنیفہ کے نزدیك اچھا ہے۔ الخ (ت) |
پھرا مام صفار کا ارشاد سن چکے کہ مذہب اما م میں تلقین مناسب ہے، یہ امام علام صرف دو واسطہ سے شاگرد صاحبین ہیں، امام نصیر بن یحیٰی سے اخذ علم کیا وھو عن ابن سماعہ عن ابی یوسف ح وعن ابی سلیمان الجوز جانی عن محمد (انھوں نے ابن سماعہ سے انھوں نے امام ابویوسف سے اور امام نصیر نے ابوسلیمان جوزجانی سے اخذ کیا انھوں نے امام محمد سے۔ ت) یہ بالیقین اعرف بمذہب امام ومعنی ظاہرالروایۃ پھر اس سے ہزار درجہ زائد اس جناب کا وہ ارشاد ہے کہ تلقین مذہب اہلسنت اور اس کا معنی مشرب معتزلہ ہے۔اور وہ واقعی مشائخ مذہب میں اس فرقہ ضالہ کا اختلاط اور نقول مذہب میں اس کے اقوال و تخاریج کا اندراج بعض جگہ سخت لغزشوں کا باعث ہوتا ہے۔ یہاں تك کہ کبھی حقیقت کا رماہروں پر ملتبس ہو جاتی ہے۔ وباﷲ العصمۃ جیسے بشر مَریسی معتزلی کا قول والرحمن الاافعل کذا [4](رحمن کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا۔ ت)اگر سورۃ رحمن مرادلی یمین نہ ہوگی، صاحب ولو الجیہ وخـلاصہ وغیرہما نے یوں نقل کردیا کہ گویا یہی مذہب ہے، حالانکہ وہ اس معتزلی کا قول ہے۔ اور مذہب مہذب ائمہ کرام کے بالکل خلاف کما حققہ فی البحرالرائق (جیسا کہ البحرالرائق میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) ردالمحتار میں کہا: ھـذا التفصیل فی الرحمن قول بشر المریسی [5] (الرحمن میں بہ تفریق، بشر مریسی کا قول ہے۔ ت)ایسا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع