30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علت بیان کی گئی ہے لہذا اسی کو ترجیح ہے۔ ت) ولہٰذا علامہ شامی آفندی تبیین کا یہ کلام نقل کرکے فرماتے ہیں: ظاھر استدلا لہ للاول اختیارہ ١ [1]یعنی قول استحباب پر دلیل قائم کرنے سے ظاہر یہی ہے کہ امام زیلعی اسی کو مذہب مختار جانتے ہیں ا ور خود علامہ شامی کا کلام اختیار جواز و استحباب پر دلیل ہے کہ معراج الدرایہ سے عدم تلقین کا ظاہر الروایۃ ہونا نقل کرکے پھر اسی معراج سے بحوالہ کافی و خبازیہ امام صفار کا وہ ارشاد نقل کیا پھر فتح کا حوالہ دیا کہ انھوں نے حدیث تلقین کو اپنی حقیقت پرمحمول کرنے کی بہت تائید فرمائی، پھر غنیہ سے تائید لائے کہ حدیث میں تجوز ہے مگر تلقین سے منع نہ کریں گے کہ میّت کو مفید ہے، پھر زیلعی کے کلام سے یوں استظہار کیا اور شارح نے جو مشروعیتِ تلقین کو قول اہلسنت کہا اسے مقرر و مسلم رکھا، واﷲ تعالٰی اعلم
نکتہ جلیلہ تتمیم کلام و ازالہ اوہام میں
اقول: وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الٰی ذری التحقیق، طائفہ جدیدہ ان اقول کے مقابل براہ تلبیس و مغالطہ منع تلقین کے اقوال پیش کردیتے ہیں، حالانکہ یہ محض جہالت بے مزہ ہے، ہم یہاں نفس مسئلہ تلقین کی بحث میں نہیں ہیں بلکہ غرض یہ ہے کہ ان علمائے مجوزین نے ادراك وسمع موتٰی مانا، اور یہ امر اقوال مذکورہ سے یقینا ثابت، ذرا آنکھیں مل کر دیکھیں کہ ائمہ نے کیا چیز جائز مانی، تلقین میّت۔ پھر یہ سیکھیں کہ تلقین کے معنی کیا ہیں، تفہیم و تذکیر یعنی سمجھانا اور یاد دلانا کما فی حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی (جیساکہ حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی الفلاح میں ہے ۔ ت) پھر کسی ذی عقل سے پوچھیں کہ تفہیم وتذکیر جماد و دیوار کو ہوتی ہے یا سامع فہیم وہوشیارکو؟ حاشا وکلاّ ہر سمجھ والابچہ جانتا ہے کہ سمجھانا اور یاد دلانا ہر گز متصور نہیں جب تك مخاطب سنتا سمجھتا نہ ہو اور جس کے اعتقاد میں ہو کہ مخاطب نہ عقل وفہم رکھتا ہے نہ میرا کہا سنے، پھر اس کے آگے بقصد تفہیم وتذکیر بات کرے وہ قطعًا مجنون ودیوانہ ہوگا لہذا یقینا واجب کہ جو ائمہ وعلماء استحباب ، خواہ جواز تلقین کے قائل ہوئے انھوں نے بلاشبہ اموات کو بعد دفن بھی کلام احیاء سننے والا مانا اور اسی قدر مقصود تھا بخلاف اقوال منع کہ وہ نہار نہ مخالف کو مفید نہ ہمیں مضر کہ ترك تلقین کی علت کچھ انکار فہم وسماع ہی میں منحصر نہیں جس سے خواہی نخواہی سمجھا جائے کہ جو تلقین نہیں مانتا وہ میّت کو سمیع و فہیم بھی نہیں جانتا، کیا ممکن نہیں کہ اس کی وجہ بعض کے نزدیك عدم ثبوت ہو، جیسا کہ حلیہ میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع