30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح صاحب حقائق نے بتصریح عــــہ اس کے کہ یہ تلقین بعد دفن تھی، صاحب غیاث سے نقل کیا کما فی الحلیۃ (جیسا کہ حلیہ میں ہے۔ ت)امام ابن امیر الحاج عبارت حقائق لکھ کر فرماتے ہیں: یفیدون فعلہ راجح علٰی ترکہ [1]۔ یہ کلام استحباب تلقین کا مفید ہے۔ پھر اس پر حدیث سے دلیل ذکر کر کے ائمہ محدیثین امام ابو عمرو بن الصلاح وغیرہ سے ا س کا بوجہ شواہد و عمل قدیم علمائے شام قوت پانا نقل کرتے ہیں کما فی المقصد الثانی ( جیسا کہ ہم نے اسے مقصد دوم میں پیش کیا۔ ت) قول (١٤٤ و ١٤٥): مضمرات میں ہے:
|
نحن نعمل بھما عندالموت وعند الدفن ٢[2]۔ نقلہ فی الھندیۃ ۔ |
ہم دونوں تلقینوں پر عمل کرتے ہیں وقت نزع بھی اور وقت دفن بھی، اسے ہندیہ میں نقل کیا گیا۔ ت) |
قول (١٤٦): ذیل مجمع البحار میں ہے : اتفق کثیر علی التلقین ٣ [3]بہت علماء کا تلقین پر اتفاق ہے۔
قول (١٤٧): نورالایضاح میں ہے: تلقینہ فی القبر مشروع [4]مُردے کو تلقین کرنا مشروع ہے۔
قول(١٤٨و١٤٩): علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں کتاب التجنیس والمزید سے ناقل:التلقین بعد الموت فعلہ مشائخنا [5]ہمارے بعض مشائخ نے موت کے بعد تلقین فرمائی ہے۔
قول ( ۱۵۰و ۱۵۲): جامع الرموز میں جواہر سے منقول :
|
سئل القاضی مجدا لدین الکرمانی عنہ قال ما راہ المسلمون حسنا فھو عند اﷲ حسن و روی فی ذلك الحدیثن [6]۔ |
قاضی مجدالدین کرمانی سے دربارہئ تلقین سوال ہوا، فرمایا جوبات مسلمان اچھی سمجھیں خدا کے نزدیك اچھی ہے۔ اور اس بارے میں دو حدیثیں روایت کیں ۔ |
عــــہ: یہ معنی خود لفظ اوصانی سے مستفاد مگر اس میں صریح تر ہے کہ لقن بعض الائمۃ بعد دفنہ واوصانی بتلقینہ فلقنتہ بعد مادفن [7]۱۲منہ (بعض ائمہ نے بعد دفن میّت کو تلقین فرمائی اور مجھے میّت کو تلقین کرنے کی وصیت کی تو میں نے بعد از دفن میّت کو تلقین کی۱۲ منہ (ت)
[1] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[2] فتاوٰی ہندیہ بحوالہ المضمرات الباب الحادی والعشرون فی الجنائز نورانی کتب خانہ پشاور ١/١٥٧
[3] تکملہ مجمع بحارالانوار تحت لفظ ثبت نولکشور لکھنؤ ص ٢٥
[4] نورالایضاح باب احکام الجنائز مطبع علیمی لاہور ص٥٤
[5] حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنائز دارالمعرفۃ بیروت ١/٣٢٤
[6] جامع الرموز فصل فی الجنائز مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١/٢٧٩
[7] حاشیۃ الشبلی علی التبیین بحوالہ الحقائق با ب الجنائز مطبعہ کبرٰی بولاق مصر ١/٢٣٤
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع