30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وحسبنا اﷲ العزیز الغفور وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ الٰی یوم النشور۔ |
ہمیں عزت ومغفرت والاخدا کافی ہے اور اﷲ تعالٰی ہمارے آقا ومولا حضرت محمد اورا ن کی آل واصحاب پر تا حشر درود و حمت بھیجے۔ (ت) |
فصل سیز دہم: بعد دفن میّت کو تلقین اورا سے عقائد اسلام یاد دلانے میں، یہ فصل فصل دواز دہم کی ایك صنف ہے کہ اس میں بھی میّت سے سوائے سلام اور قسم کا خطاب وکلام ہے کما لا یخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ ت) میں یہاں صرف علمائے حنفیہ کے اقوال شمار کروں گا کہ شافعیہ تو قاطبتہً قائل تلقین ہیں الا من شاء اﷲ ۔
قول (۱۳۱تا ۱۳۳): امام زاہد صفار نے کتاب مستطاب تلخیص الادلہ میں تصریح فرمائی کہ تلقین موتٰی مسلك اہلسنت ہے اور منع تلقین مذہب معتزلہ پر مبنی کہ وہ میّت کو جماد مانتے ہیں، امام حاکم شہید نے کافی اور امام خبازی نے خبازیہ میں ان سے نقل فرمایا :
|
ان ھذا (ای منع التلقین) علٰی مذھب المعتزلۃ لان الاحیاء بعد الموت عندھم مستحیل، اما عنداھل السنہ فالحدیث ای لقنوا واتاکم لا الٰہ الا اﷲ محمد علی حقیقۃ۔ لان اﷲ تعالٰی یحییہ علی ماجائت بہ الاثارت وقدروی عنہ علیہ الصلوۃوالسلام انہ امر بالتلقین بعدا لدفن [1] الخ ذکرہ فی ردالمحتار عن معراج الداریۃ۔ |
تلقین سے ممانعت معتزلہ کامذہب ہے اس لیے کہ موت کے بعد زندہ کرنا ان کے نزدیك محال ہے لیکن اہلسنت کے نزدیك حدیث تلقین (اپنے مردوں کو لا الہ الا اﷲ سکھاؤ) اپنے حقیقی معنی پر محمول ہے اس لیے کہ اﷲ تعالٰی مُردے کو زندہ فرمادیتا ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے اور حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ سرکار نے دفن کے بعد تلقین کا حکم دیا الخ۔ اسے ردالمحتار میں معراج الدرایہ کے حوالے سے ذکر کیا۔ (ت) |
قول (١٣٤ تا ١٣٥): درمختار میں جوہرہ نیرہ سے ہے: انہ مشروع عند اھل السنۃ [2]بیشك تلقین اہل سنت کے نزدیك مشروع ہے۔
قول (١٣٦): نہایہ شرح ہدایہ میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع