30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
چوں بہ سرخاك رسد بحس مشاہدہ کند خاك اور احس اونیز مشغول اومی شود بکلی متوجہ گر دوفائدہ بیشتر باشد ودیگر آنکہ ہرچند ارواح راحجاب نیست وہمہ جہاں اورا یکے است اما بآں است امابآں موضع تعلق بیشتر بود [1]اھ ملخصا |
کو جاتا ہے تو جس قدر آگے بڑھتا ہے اس کی توجہ بڑھتی جاتی ہے، جب قبر کے پاس پہنچتا ہے تو حواس سے اس قبر کا ادراك اور مشاہدہ کرتاہے ا ب اس کے حواس بھی اس کے ساتھ مشغول ہوجاتے ہیں اور وہ پورے ظاہر وباطن کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے جس کا فائدہ فزوں ترہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر چہ ارواح کے لیے حجاب نہیں ہے اورسارا جہان ان کے لیے ایك ہے مگر اس مقام سے تعلق زیادہ ہوتا ہے۔ اھ بہ تلخیص (ت) |
قول (١١٥ تا ١١٦): سید جمال مکّی کے فتاوٰی میں امام شہاب الدین رملی سے منقول:
|
للانبیاء والرسل والاولیاء والصالحین اغاثہ بعد موتھم ٢ [2]۔ |
انبیاء ورسل واولیاء وصالحین بعد رحلت بھی فریاد رسی کرتے ہیں۔ |
فصل یازدہم: تصریحات علماء میں کہ سلام قبور دلیل قطع سماع وفہم وعلم وشعور ہے۔
قول (١١٧): امام عزالدین بن عبدالسلام اپنی امالی میں فرماتے ہیں :
|
لانا امرنا بالسلام علی القبور ولولاان الارواح تدرك کان فیہ فائدۃ [3]۔ |
ہمیں حکم ہوا کہ قبور پر سلام کریں اگر روحیں سمجھتی نہ ہوتیں تو بیشك ا س میں کچھ فائدہ نہ ہوتا۔ |
قول (١١٨): امام ابو عمر ابن عبدالبر نے فر مایا:
|
احادیث زیارۃ القبور والسلام علیھا وخطابھم مخاطبۃ الحاضر العاقل دالۃ علی ذلک٤[4] اھ ملخصا۔ |
زیارت قبور اور ان پر سلام اور ان سے حاضر عاقل کی طرح خطاب کی حدیثیں اس پر دلیل ہیں اھ ملخصا |
قول (١١٩): شرح الصدور میں مثل قولین سا بقین منقول:
|
قد شرح صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لامتہ ان یسلموا علی اھل القبور سلام من یخاطبونہ |
بیشك نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے اہل قبور پر ایسا مشروع فرمایا ہے جیسے سننے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع