30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی جمیع الاھوال والشدائد فی الدنیا و الاٰخرۃ فکیف بائمۃ المذھب الذین ھم أوتادالارض وارکان الدین وأمناء الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی امتہ رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین[1]۔ |
پر ایمان کے بارے میں سوال کیا جائے الگ ہو اس کے پاس سے، یہ فرماتے ہیں نکیرین مجھ سے الگ ہوگئے اور جب مشائخ کرام صوفیہ قدست اسرارہم ہول وسختی کے وقت دنیا وآخرت میں اپنے پیرووں اور مریدوں کا لحاظ رکھتے ہیں تو ا ن پیشوایانِ عذاب کاکہنا ہی کیا جو زمین کی میخیں ہیں اور دین کے ستون، او ر شارع علیہ السلام کی اُمت پر اس کے امین رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔ |
ﷲا کبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد ؎
حسبی من الخیرات ما اعددتہ یوم القیامۃ فی رضی الرحمٰن
دین النبی محمد خیرالورٰی ثم اعتقادی مذھب النعمٰن
وارادتی وعقیدتی ومحبتی للشیخ عبدالقادر الجیلانی
( میرے لیے نیکیوں سے وہ کافی ہے جو روز قیامت خوشنودی الٰہی کی راہ میں، میں نے تیار کررکھا ہے۔ نبی اکرم ، مخلوق میں سب سے افضل حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا دین پاک، پھر مذہب نعمان امام اعظم ابوحنیفہ پر اعتقاد، اور سیدی شیخ عبدالقادر جیلانی سے ارادت اور عقیدت ومحبت۔ ت) ؎
وی بخاك رضا شدم گفتم کہ تو چونی کہ ماچناں شدہ ایم
ہمہ روز از غمت بفکر فضول ہمہ شب درخیال بہیدہ ایم
خبری گو بماز تلخی مرگ سنیّت را گدائے میکدہ ایم
شیر بودیم و شہد افروزند ما سراپا حلاوت آمدہ ایم
(ایك دن میں نے رضا خاکی خاك پر جاکرکہا تمھارا کیا حال ہے، ہمارا حال تو یہ ہے کہ دن رات تمھارے غم میں بیکار سوچتے اور فکر کرتے رہتے ہیں، بتاؤ کہ موت کی تلخی کا حال کیسا رہا؟ عرض کیا: یہ تلخ جام ہم نے تو کم ہی چکھا، قادریت ہمارا مشرب رہا اور سنیت ہمارا میکدہ۔ ہم دُودھ تھے ہی اس پر شہد کا اضافہ ہوا، ہم تو سراپا حلاوت نکلے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع